السید علی حائری  رضوی لاہوری
السید علی حائری رضوی لاہوری


السید علی حائری رضوی لاہوری
سید علی حائری رضوی برصغیر پاک و ہند کے شیعہ علماء میں سے ایک معروف ترین علمی شخصیت کے طور پر جانے جاتے تھے ۔
مشہور فتاوا
مرزا غلام احمد قادیانی نے جب اسلام دشمنی میں اپنے ناپاک عزائم کا اظہار کرنا شروع کیا تو آپ نے اس کے خلاف قلم اٹھایا ۔ آپ کے متعلق مرزا غلام احمد قادیانی نے اپنی تحریروں میں اس کی طرف اشارہ کیا اور بعض اوقات آپ کی نسبت نازیبا الفاظ استعمال کئے ۔جب اس نے اسلام کے بنیادی عقائد کا انکار اور انہیں نشانہ بنایا تو آپ نے اس وقت اپنی فقہی ذمہ داری کا احساس کرتے ہوئے اور اسکی تعلیمات کے مسلمان معاشرے پر اثرات کو روکنے کیلئے اسے مرتد قرار دینے کا فتوی دیا ۔اسی طرح مسجد شہید گنج لاہور کو برقرار رکھنے کا فتوی دیا جس کی وجہ سے حکومت برطانیہ اس مسجد کو باقی رکھنے پر (3)مجبور ہوئی ۔ ان دونوں فتووں کو اس وقت کے اخباری میڈیا نے شہ سرخیوں سے نشر کیا ۔مسجد کے فتوے کی بدولت یہ مسجد

علامہ السید علی حائری رضوی لاہوری
پیدائش1298, ہجری۔ لاہور بمطابق 1881ء
وفات۲۸ جون ۱۹۴۱ 3جمادی الثانیہ1360ھ
تعارفسید علی حائری رضوی (۱۸۷۶ء - ۱۹۴۱ء) برصغیر پاک و ہند کی ایک معروف ترین شیعہ شخصیت تھی ۔ ابتدائی اور متوسط درجے تک اپنے والد ابو القاسم حائری کے پاس حاصل کی اور پھر عراق گئے جہاں مختلف اساتذہ سے اجازۂ اجتہاد حاصل کرنے کے بعد واپس آئے اور لاہور میں رہ کر مذہبی خدمات تبلیغ و تحریر کی صورت میں انجام دینا شروع کیں۔ علامہ اقبال لاہوری آپ کے پاس اکثر و بیشتر آتے ۔ لوامع التنزیل کے نام سے قرآن پاک کی تفسیر کہ جسے آپ کے والد نے شروع کیا اور اسکی 12 جلدیں لکھیں آپ نے اسے تکمیل کرنا شروع کیا اور اسکی 15 جلدین لکھیں لیکن پھر بھی وہ تکمیل نہ ہو سکی ۔ مرزا غلام احمد قادیانی کے نظریات کے مخالف تھے اسکے خلاف علمی اقدام بھی کئے نیز اسکے مرتد ہونے کا فتوا صادر کیا ۔ علمی ذخیرے میں 50 سے زیادہ آثار چھوڑے ۔بعض نے 72 تک تعداد بیان کی ہے۔آپ کی رحلت کے دن لاہور کے تعلیمی ادارے بند رہے ۔
نام ونسب امام علی بن موسی رضا کی نسل سے خاندان رضوی ۔
زندگی نامہآپ کا اصل وطن مملکت ایران کا شہر قم تھا۔ سلسلہ نسب امام علی رضا ؑ تک پہنچتا ہے اس لئے رضوی کہلاتے ہیں۔ آپ کےجد امجد سید حسین قمی ایران سے وارد کشمیر ہوئے اور پشمینہ کا کاروبار کرنے لگے۔ آپ کی ایک شاخ اب تک کشمیر میں آباد ہے۔

علامہ سید علی حائری ۱۲۹۸ ھ ( ۱۸۸۱ ء ) میں لاہور میں پیدا ہوئے۔ فقہ ، اصول فقہ ، اور علم تفسیر و حدیث جیسے علوم اپنے والد ماجد ابو القاسم حائری سے پڑھے پھر بغرض تکمیل علوم عتبات عالیات ( عراق و عرب ) کو روانہ ہوئے۔ سامرہ میں مرزا محمد حسن شیرازی اور مرزا حبیب اللہ رشتی نجفی کے درس میں شریک رہے،انکے علاوہ آقا سید کاظم طباطبائی ، آقا مازندرانی ، ملا محمد کاظم خراسانی اور سید ابو القاسم طباطبائی نے آپ کو اجازے مرحمت فرمائے۔

(1)دسمبر ۱۹۱۱ ء میں شہنشاہ جارج پنجم کی تاجپوشی کے موقعہ پر آپ پنجاب کےشیعوں کی طرف سے دربار دہلی میں مدعو کئے گئے۔
۱۹۱۴ ء میں آل انڈیا شیعہ کانفرس لکھنؤ کے اجلاس میں آپ کو کرسئ صدارت پر بٹھایا گیا۔ شیعہ کالج لکھنؤ کےقیام کے سلسلے میں بھی آپ متعلقہ اجلاس کی روح رواں تھے۔ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے قیام کی خاطر ایک خطیر رقم اپنی جانب سے بطور نذر پیش کی۔ مولانا نہایت وجیہہ ، بے حد جامہ زیب اور بہت ہی خوش گلو تھے۔آپ کی تقاریر قرآن و حدیث کے تحت نہایت مدلل ہوتی تھیں۔جملہ مذاہب کے لوگ آپکے سامعین ہوتے ۔ آپ کی ہر دلعزیزی اور علمی فضیلت کی بناء پر حکومت نے یکم جنوری 1927ء کو ایک نوٹیفیکیشن[2] کے ذریعے آپ کو شمس العلماء کا خطاب عطا کیا۔

آپ پہلے اندرون شہر چوک نواب صاحب متصل مسجد نواب صاحب قزلباش رہا کرتے تھے۔ ۱۹۳۰ ء میں آپ نے شہر سے باہر وسن پورہ میں اپنا مکان تعمیر کرا لیا اور وہیں ایک وسیع و عریض مسجد بھی بنوائی جسے جامعہ حائری کہتے ہیں۔
اولاد
آپ کی اولاد میں تین بیٹے سید رضی رضوی ، سید زکی رضوی ، سید تقی رضوی ، تھے جنہوں نے دنیاوی تعلیم حاصل کی ۔

خصوصیات
مشہور فتاوا
مرزا غلام احمد قادیانی نے جب اسلام دشمنی میں اپنے ناپاک عزائم کا اظہار کرنا شروع کیا تو آپ نے اس کے خلاف قلم اٹھایا ۔ آپ کے متعلق مرزا غلام احمد قادیانی نے اپنی تحریروں میں اس کی طرف اشارہ کیا اور بعض اوقات آپ کی نسبت نازیبا الفاظ استعمال کئے ۔جب اس نے اسلام کے بنیادی عقائد کا انکار اور انہیں نشانہ بنایا تو آپ نے اس وقت اپنی فقہی ذمہ داری کا احساس کرتے ہوئے اور اسکی تعلیمات کے مسلمان معاشرے پر اثرات کو روکنے کیلئے اسے مرتد قرار دینے کا فتوی دیا ۔اسی طرح مسجد شہید گنج لاہور کو برقرار رکھنے کا فتوی دیا جس کی وجہ سے حکومت برطانیہ اس مسجد کو باقی رکھنے پر (3)مجبور ہوئی ۔ ان دونوں فتووں کو اس وقت کے اخباری میڈیا نے شہ سرخیوں سے نشر کیا ۔مسجد کے فتوے کی بدولت یہ مسجد اب بھی باقی ہے ۔
علامہ اقبال اور سید علی حائری
علامہ اقبالؒ آپ کے اردتمند تھے اور آپ سے ملاقات کیلئے آیا کرتے تھے۔ایک ملاقات میں آپ نے علامہ اقبال سے کہا: مجھے آپ جیسے عالم و فاضل اور مفکر سے یہ امید نہیں تھی کہ آپ یوں اہل بیت اور آل محمد کی عظمت سے بے خبر ہونگے کیونکہ آپ نے ابھی تک ان کے بارے میں کچھ نہیں لکھا۔ چنانچہ اسکے بعد علامہ اقبال کئی مرتبہ آپ کے پاس تبادلہ خیال کیلئے آتے رہے اور پھر آخر عمر تک اقبال اہل بیت کی شان میں لکھتے رہے اور ایسا لکھا جسکی نظیر پیش کرنا مشکل ہے۔ علامہ اقبال آپ کے بہت قدر دان تھے یہی وجہ تھی کہ علامہ اقبال کا نماز جنازہ اسلامیہ کالج ریلوے روڈ کی گراؤند میں قبلہ (4)علامہ حائری نے پڑھایا اور پھر دوبارہ بادشاہی مسجد میں کسی دیگر عالم نے پڑھایا۔

پاک و ہند میں آپ کی تقلید کی جاتی تھی ۔پنجاب و سندھ میں آپ کے مقلدین کی کافی تعداد تھی۔نیز برما و افریقہ میں بھی مومنین آپ کی تقلید کرتے تھے۔
علامہ اقبال آپ کے ارادتمندوں میں سے تھے اور وہ اکثر و بیشتر آپ کے پاس آتے تھے۔
علامہ اقبال کی ایک نماز جنازہ آپ نے پڑھائی تھی۔[5]
آپکی تقریر میں سوز و گداز تھا ۔ بعض اوقات آپ کی تقریر سن کر لوگ مجمعے ہی میں شیعت کا اعلان کر دیتے ۔جیسا کہ تقیہ کے عنوان کے خطاب کے بعد مجمع میں سے تین افراد نے کھڑے ہو کر شیعہ ہونے کا اعلان کیا۔
مرزا احمد قادیانی کی آپ نے شدید مخالفت کی ۔جس کی وجہ سے اس نے دیگر کتابوں کی طرح اپنی کتاب ضمیمہ اعجاز احمدی کے ٹائیٹل پر دوسرے دو افراد کے ساتھ آپ کا نام بھی لکھا اور اپنی تالیفات میں بعض مقامات پر آپکی جانب جھوٹی باتیں منسوب کیں۔
آپ کا کتب خانہ عمدہ تها ۔
گورنمنٹ نے آپ کو شمس العلماء کا لقب دیا ۔
آپ کی توجہ سے انجمن مواعظ صادقیہ، انجمن اثنا عشریہ، انجمن اعوان الوفا لاہور، انجمن مرتضوی امر تسر، انجمن امامیہ پیشاور ،انجمن اتفاق امامیہ بٹالہ،انجمن تذکرۃ المعصومین فیرو ز پورہ وغیرہ قائم ہوئیں ۔
اساتذہ
سامرہ میں عرصہ تک سرکار جناب مرزا محمد حسن صاحب شیرازی کے درس خارج میں شرکت کی اور کچھ عرصہ مرزا حبیب اللہ رشتی نجفی مرحوم کے بھی درس میں شریک رہے اور ان دونوں بزر گواروں نےاور جناب آقا سید کاظم صاحب طباطبائی اورجناب آقا عبد اللہ مازندرانی اورجناب ملا محمد کاظم خراسانی اور جناب السید ابوالقاسم طباطبائی معروف بعلامہ طباطبائی نے آپ کو اجازے دئیے ۔

۔ آیت اللہ مرزا محمد حسن شیرازی ؒ
۔ آیت اللہ مرزا حبیب اللہ رشتی ؒ
۔ آیت اللہ سید کاظم طباطبائی ؒ
۔ آیت اللہ محمد کاظم خراسانی
آپ کے شاگردوں میں مولوی مرزا احمد‌علی صاحب امرتسری مصنف رسالہ دلیل العرفان وغیرہ ہیں اور مولوی قائم حسین صاحب ہیں ۔
تالیفاتعربی
اعمال عاشورا
بیان الجہر و الاخفات
فارسی
تفسیر لوامع التنزیل سواطع التاویل :اس تفسیر کی 15 جلدیں لکھیں جن میں سے 26 تک کو مکمل کیا اور27ویں جلد کو جزوی طور پر لکھا تھا کہ وفات ہو گئی ۔
(6)عشرہ کاملہ
غایت المقصود جلد اول فارسی ، جلد ۳ فارسی:ختم نبوت اور وحی سے متعلق جامع کتاب۔(7)بقول بزرگ تہرانی یہ 4 جلدوں پر مشتمل جسکی پہلی جلد قادیانیت کے خلاف ہے اس احوال امام زمان دوسری (8)جلد دجال کے متعلق ہے ۔
مصابیح الظلام
اباحۃ نکاح الہاشمیہ لغیر الہاشمی: غیر سید اور سید زادی کا نکاح کرنا جائز ہے۔
(9)میزان الاعمال در میزان قیامت
(10)تنبیہ المومنین در شرائط اجتہاد :البتہ بزرگ تہرانی نے اس نام سے ایک اور کتاب معرفی کی ہے جو ظاہرا کسی شخصیت کے بارے میں لکھی گئی۔
منہاج السلام
ملفوظات حائری
(11)تحذیر المعاندین
سیف الفرقان فی تعریف الکفر والایمان
سوال و جواب
انوار درعلت اغسال
رسالہ الغدیر
(12)خوارق البوارق دراعجاز قرآن
(13)حل ما لا ینحل دراحکام کفار و ولد الزنا
(14)لمعہ لمعانی :خاک شفا پر سجدہ کرنے کے متعلق۔
وسیلۃ المبتلاء
حجت شاہدہ (خلافت راشدہ کا جواب ہے)
(15)التنقید در اجتہاد و تقلید
اردو
(16)تبصرۃ العقلاء
(17)منہج المعاد
رسالہ مضمون طاعون
سوانح قاسمی :اپنے والد سید ابو القاسم حائری کے حالات زندگی پر مشتمل ہے۔
تقلید المقلدین
مقدمات نماز
نماز جعفریہ
نماز امامیہ
نماز نفلیہ
(18)بشارات احمدیہ:بائبل سے نبوت اور امامت کا اثبات۔
ہدایات حائری
احکام الشکوک و شکیات نماز
(19)فتاوی حائری حصہ اول تا ہشتم ۔
حجاب نسواں
مناسک حج
(20)مسیح موعود
مہدی موعود
(21)فلسفۃ الاسلام
دلیل المتعہ
حقیقت پردہ
خلافت قرآنی
موعظہ حسنہ الملقب بہ اظہار حقیقت :۲۸اکتوبر ۱۹۱۲ء کو دس ہزار کے مجمع میں مخالفین کےساتھ سوالوں کا جواب ۴۸ معتبر کتب سے دیا ۔
موعظہ غدیر
موعظہ مباہلہ
موعظہ تقیہ
موعظہ تحریف قرآن : شیعوں نزدیک قرآن کے تحریف نہ ہونے پر لکھا ۔
تنقید
صورت الصلوۃ
رسالۃ الہدی
البرہان
(22)اللواء:کربلا میں میت دفن کرنے کے متعلق ہے۔
(23)الموید
مفید الصبیان و النسواں
رسالہ الموئد نصاری کے رد میں ہے،رسالہ سکوت امیر المومنین (24)،تقریظات المشاہیر ، چار جلدیں؛قصائد مدحیہ ؛حدیث قرطاس ؛
وفات
سید علی حائری نے تفسیر لوامع التنزیل کی 27ویں جلد میں سورۂ قمر کی تکمیل کرتے ہوئے وفات پائی۔آپکی وفات کا دن ۲۸ جون ۱۹۴۱ 3جمادی الثانیہ1360ھ بروز ہفتہ تھا ۔ کربلا گامے شاہ بیرون بھاٹی گیٹ لاہور میں دفن ہوئے ۔

آپ کی وفات پر اخبارات نے خاص شمارے نکالے بے ۔جنازے میں انتہا مجمع تھا ۔ کسی نے اشعار کی صورت میں تاریخ وفات کہی :

بتاریخ وفات سیدہ ؑ روزی کہ بد شنبہ رسیدہ روح آن مرحوم نزد حضرت احمد
چو شد ” امر رقم “ حاصل ہم آواز ملک گشتہ بگو در خلد علامہ علی حائری آمد
حوالہ جات
(1)ورود شہنشاہی ترجمہ عزیز الدین احمد ، لاہور ، منشی گلاب سنگھ ، ۱۹۱۱ ء ، ص ۵۸۶
(2) پنجاب گزٹ (انگریزی)، حصہ اول ، ۱۴ جنوری ۱۹۲۷ ء ، ص ۱۱۷۔
(3)مجلۂ میراث بر صغیر حائرین نمبر ص 175
(4)مجلہ میراث برصغیر حائرین نمبرص174
(5)مولانا مرتضی حسین فاضل ، مطلع الانوار ، ص ۳۴۲۔
(6)بزرگ تہرانی،الذریعہ،15/264/1720۔
(7) سید حسین عارف نقوی ، تذکرہ علماء امامیہ پاکستان ، ص ۱۷۸ ۔
(8)بزرگ تہرانی،الذریعہ،16/23/84۔
(9) بزرگ تہرانی،الذریعہ،23/306/9100۔
(10) بزرگ تہرانی،الذریعہ،4/449/2004۔
(11) بزرگ تہرانی،الذریعہ،3/376/1369۔
(12) بزرگ تہرانی،الذریعہ،7/269/1302۔
(13) بزرگ تہرانی،الذریعہ،7/73/387۔
(14) عبد المحسن سراوی،القطوف الدانيہ،1/100/12دار المودۃ؛ نقل از نقباء البشر4/1339
(15) تذکرہ علماء پنجاب جلد ۱ص۳۹۰
(16) بزرگ تہرانی،الذریعہ،3/318/1176۔
(17) بزرگ تہرانی،الذریعہ،23/198/8618۔
(18) بزرگ تہرانی،الذریعہ،3/112/377
(19) بزرگ تہرانی،الذریعہ،16/23/84۔
(20) بزرگ تہرانی،الذریعہ،21/30/3802۔
(21) بزرگ تہرانی،الذریعہ،16/23/84۔
(22) بزرگ تہرانی،الذریعہ،18/356/458۔
(23) بزرگ تہرانی،الذریعہ،23/285/9000۔
(24) بزرگ تہرانی،الذریعہ،3/91/286۔
شئیر کریں:

This function has been disabled for مرکز احیاء آثار بر صغیر.