علامہ طالب حسین کرپالوی شہید


علامہ طالب حسین کرپالوی شہید

7 جولائی 7991 کو ملتِ تشیع پاکستان لاہور میں مقیم ایک ایسے محقق دانشور اور لکھاری اور عالم دین سے محروم ہو گئی جو اپنی ذات میں ایک انجمن تھا، 08 اور 09 کی دہائی میں مؤمنین لاہور نے ، لاہور میں مقیم علامہ طالب حسین کر پالوی شہید کو ضرور دیکھا ہو گا، شیروانی میں ملبوس اور عجز و انکساری کا پیکر جس نے اپنی زندگی کا اوڑھنا بچھونا علوم آل محمد علیہ السلام کی ترویج بنا لیا تھا۔

تعارف نامہ
علامہ طالب حسین کرپالوی شہید
7جولائی 1997 کو تشیع پاکستان لاہور میں مقیم ایک ایسے محقق دانشور اور لکھاری اور عالم دین سے محروم ہوگئی جو اپنی ذات میں ایک انجمن تھا، 80اور 90کی دہائی میں مومنین لاہور نے لاہور میں مقیم علامہ طالب حسین کرپالوی شہید کو ضرور دیکھا ہوگا، شیروانی میں ملبوس اور عجز و انکساری کا پیکر جس نے اپنی زندگی کا اوڑھنا بچھونا علوم آل محمد ع کی ترویج بنالیا تھا۔
ولادت ، ابتدائی تعلیم اور اعلیٰ تعلیم تاریخ پیدائش۔ یکم اکتوبر،1954ء
ولدیت۔ غلام جعفر
آبائی علاقہ۔ کرپالا، ضلع فیصل آباد
تعلیم۔ ابتدائی تعلیم اپنے گاؤں میں حاصل کی۔ مشہور مناظر مولانا محمد اسماعیل دیوبندی مرحوم آپ کے گاؤں مجلس پڑھنے آئے تو آپ کے والد مرحوم کو اپنے بیٹے کو درس آل محمد فیصل آباد میں داخلے کے لیے قائل کر لیا۔ یکم جون 1967ء کو درس آل محمد میں داخل ہو گئے۔
تین ساڑھے تین سال درس آل محمد میں پڑھنے کے بعد جامعہ حسینہ، جھنگ میں داخلہ لے لیا۔ جون 1973ء میں سرگودھا بورڈ سے فاضل عربی کا امتحان پاس کیا۔
یکم اپریل،1974ء کو جب مدرسہ الواعظین کا لاہور میں افتتاح ہوا تو پہلی کلاس جو چھ طلبہ پر تھی میں ایک مولانا طالب حسین کرپالوی بھی تھے۔
آپ نے سلطان الافاضل کی سند وفاق المدارس شیعہ سے حاصل کی۔
اساتذہ۔معروف اساتذہ کے اسماء گرامی یہ ہیں۔
مولانا محمد اسماعیل فاضل دیوبند
مولانا مظہر الحق فاضل دیوبند
مولانا سید محمد عارف
مولانا ظہور حسین
مولانا مرزا یوسف حسین لکھنوی
مولانا محمد بشیر انصاری
مولانا مرتضٰی حسین صدر الافاضل
مولانا شبیہ الحسنین محمدی
ادبی خدمات و تصانیف و تالیفاتفلسفہ توحید،15جلد، ایک مطبوعہ
سیرت النبی،45 جلد،30 مطبوعہ
انسائیکلوپیڈیا علویہ 45جلد، 7مطبوعہ
مناقب اہل بیت، 5جلد، مطبوعہ
تاریخ اسلام، 8 جلد، 7, مطبوعہ
مسئلہ تحریف القرآن، ایک جلد مطبوعہ
اس کے علاوہ یسرالقران، جعفریہ نماز، اعمال ماہ رمضان المبارک، بہت سے تبلیغی چارٹ، مضامین پمفلٹ وغیرہ بھی شامل ہیں۔
مجالس عزاء سے خطاب کے علاوہ درج ذیل علاقوں میں تبلیغی زمہ داریاں ادا کیں۔
موضع ڈھلرا، ضلع شکر گڑھ
گوٹھ غلام حیدر، سریوال، سندھ
چونیاں، ضلع قصور
امام بارگاہ حسینیہ، مکہ کالونی،گلبرگ، لاہور
مسجد و امام بارگاہ حسینیہ، ساندہ کلاں، لاہور
حالات زندگی7جولائی 1997 کو ملت ِتشیع پاکستان لاہور میں مقیم ایک ایسے محقق دانشور اور لکھاری اور عالم دین سے محروم ہوگئی جو اپنی ذات میں ایک انجمن تھا، 80اور 90کی دہائی میں مؤمنین لاہور نے ،لاہور میں مقیم علامہ طالب حسین کرپالوی شہید کو ضرور دیکھا ہوگا، شیروانی میں ملبوس اور عجز و انکساری کا پیکر جس نے اپنی زندگی کا اوڑھنا بچھونا علوم آل محمد علیہ السلام کی ترویج بنالیا تھا۔
آج 7جولائی علامہ طالب حسین کرپالوی شہید کی برسی ہے۔
80 کی دہائی کی ابتداء تھی اور نئی نئی سرکاری ملازمت۔ ساندہ کلاں لاہور کی ایک آبادی جہاں میری زندگی کے کئی سال گزرے تھے، امام بارگاہ حسینیہ، سادات گنج سے متصل ایک کمرے میں رہائش پزیر تھا۔ میرے کمرے کا
ایک دروازہ مسجد و امام بارگاہ میں کھلتا تھا۔ اُن دنوں مسجد کے پرانے پیش امام اور میرے معلم قرآن مولانا محمد باقر نقوی مرحوم سے رہائش گاہ خالی کروا لی گئی تھی جو کہ انتہائی مخدوش حالت میں تھی، جسے گرا کر نئی عمارت تعمیر کیے جانے کا پروگرام تھا۔ کمرے کا معمولی سا کرایہ جو اُن دنوں بھی گراں گزرتا تھا ادا کرتا تھا۔ مسجد کی انتظامیہ میرے کمرے میں جمع ہوتے اور گپ شپ کرتے۔ ایران عراق جنگ زوروں پر تھی۔ یہ موضوع زیادہ زیر بحث رہتا تھا۔ ایک دن بتایا کہ بجوں کو قرآن پڑھانے کے لیے ایک معلم کا بندوست کیا ہے وہ کل سے آ رہے ہیں۔ کئی دن گزر گئے میں ان سے نہ مل سکا۔ دفتر، لائبریری اور مٹر گشت کے بعد جب واپس آتا تو وہ جا چکے ہوتے۔ ایک دن میں دفتر سے براہ راست امام بارگاہ پہنچا تو دیکھا کہ ایک نوجوان چند بچوں اور بچیوں کو قرآن مجید پڑھا رہے ہیں۔ میں ان سے جا کر ملا۔ اپنا تعارف کروایا۔ انتہائی سادہ شخص، عام سا لباس، خش خشی داڑھی، جناح کیپ، بس یہ مولوی صاحب تھے۔ میں نے اپنے بارے میں بتایا کہ مسجد کے ساتھ گھر بنایا ہے۔ باتوں باتوں جب تعارف بڑھا تو کہنے لگے میں تو اُردو بول بول کر تھک گیا ہوں۔ بس پھر کیا تھا۔ میں انہیں ویگن اسٹینڈ تک چھوڑ کر آیا۔ میں نے مصروفیت کا پوچھا، تو بتایا کہ ایک کتاب” مسئلہ تحریف قرآن ” پر لکھ چکے ہیں۔ اب حضرت علی علیہ السلام پر مفصل کتاب لکھ رہے ہیں۔
جب لائبریری کی بات ہوئی تو یہ بات بھی ہم مشترک نکلی۔ بس اب جو ملاقاتیں شروع ہوئیں وہ شہادت تک جاری رہیں۔ ہمارے درمیان مشترکہ گفتگو کتاب اور تحقیق پر ہی رہتی۔ پھر یوں ہوا کہ میں ساندہ کلاں سے شاہدرے چلا گیا اور کرپالوی صاحب مکہ کالونی سے ساندہ شفٹ ہو گئے۔
کہنے لگے کہ میں حضرت علی علیہ السلام پر جو کتاب لکھ رہا ہوں اس میں دیگر زبانوں سے بھی مواد شامل کرنا چاہتا ہوں۔ اردو، فارسی اور عربی سے وہ خود حوالہ جات جمع کر رہے ہیں۔ انگریزی حوالہ جات آپ جمع کر دیں کیونکہ لائبریری تو جاتے رہتے ہیں، یہ کام بھی کر دیں۔ میں نے حامی بھر لی۔ انہوں نے کہا کہ پہلی جلد میں ابتدائی حالات دینے ہیں۔ حضرت علی علیہ السلام کی کعبہ میں ولادت اور ایمان لانے پر جو مواد انگریزی میں موجود ہے وہ جمع کر کے دے دیں۔ میں نے پنجاب پبلک لائبریری کے اردو سیکشن سے انگریزی سیکشن کی طرف رجوع کر لیا۔ نہ معلوم کتنی کتابیں دیکھیں۔ ان میں سے جو متعلقہ عبارت ملتی اس کی فوٹو کاپی کروا لیتا۔ اندازہ ہے کہ سو سے زائد حوالے جمع کر کے دیے۔ جب کوئی نیا حوالہ ملتا تو بہت خوش ہوتے۔
شہید نے انسائیکلوپیڈیا آف حضرت علی علیہ السلام کے مقدمے میں بندہ ناچیز اس کاوش کو نام کے ساتھ سراھا۔ پھر مجھے تحریک نفاذ فقہ جعفریہ میں کام کرنے کا موقع ملا جس کی وجہ سے مصروفیت بڑھ گئی۔ نہ دن اپنا رہا نہ رات۔ شہید سے ملاقات کے مواقع کم میسر آنے لگے۔ آپ نے ملاقات کا یہ طریقہ نکالا وہ میرے سرکاری دفتر تشریف لانے لگے۔ آتے ہی کہتے کہ آپ کی تنظیم میں تحریک میرے لیے نقصان دہ ثابت ہوئی ہے، جو آپ تحقیق کررہے تھے وہ مزید آگے نہیں بڑھ رہی۔ میں اپنی صفائیاں پیش کرتا۔ کہتے اچھا ساری گلاں چھڈو، اچھی جی چاے پلاو۔ اپنی تحقیق سے آگاہ کرتے، اگلے پروگرام پر بات کرتے، میرے ذمے کچھ کام لگا کر پھر ملنے کا عندیہ دے جاتے۔
آپ سارا کام خود کرتے۔ بڑے بڑے رجسٹر اٹھاے، تھیلے میں ڈالے، لائبریری لائبریری پھرتے۔ جو مواد ملتا اسے ترتیب سے لکھ لیتے۔ گھر آ کر مسودہ تیار کرتے، اگلے دن کمپوزر کو دے آتے۔ پہلے سے دیے ہوے مواد کو حاصل کرتے، پروف ریڈنگ کرتے، پھر دے آتے، کتاب مکمل کر کے پرنٹنگ پریس میں دے آتے۔ انہوں نے ترسیل کا ایک نظام بنایا ہوا تھا کہ تین ساڑھے تین سو ممبر بنائے ہوئے تھے جن سے ماہانہ وصول کرتے اور بدلے میں جو کتاب چھپ جاتی وہ انہیں بھیج دیتے۔ باقی ڈیڑھ سو کتب لائبریریوں کو عطیہ کر دیتے۔ اس کے علاوہ مسجد میں نماز جماعت کی امامت کرواتے، مجالس سے خطاب کرتے، لوگوں کی غمی خوشی میں شریک ہوئے۔ گھریلو معاملات اس کے علاوہ تھے۔ ہمت، محنت، لگن اور ثابت قدمی کی مثال آپ ہیں۔
شہادتشہادت سے چند دن قبل دفتر تشریف لائے اور کہنے لگے کہ آج کل اہل قلم کی ٹارگٹ کیلنگ ہو رہی ہے۔ نہ معلوم کب میری باری آ جائے۔
میں چاہتا ہوں کہ ایک ٹرسٹ بنا دوں۔ میں چاہتا ہوں کہ اس ٹرسٹ میں آپ اور ظل حسنین، جو کہ چیف لائبریرین، پنجاب پبلک لائبریری اس میں شامل ہوں اور سارا کام سنبھالیں۔ میں نے انہیں تسلی دی کہ اللہ آپ کو اپنے حفظ و امان میں رکھے اور انہیں یقین دلایا کہ ہم تو ہر طرح ساتھ ہیں مگر قابل عمل تجاویز دیں۔ میں نے متوجہ کیا کہ آپ کے چھوٹے بھائی مولانا فیض علی کرپالوی اور برادر نسبتی مولانا ریاض شریفی دونوں عالم دین ہیں اور فیملی سے بھی ربط ہے انہیں فعال کردار ادا کرنا چاہیے۔ ہمارے لیے جو حکم ہو گا۔ تعمیل ہو گئی۔ لگتا تھا کہ وہ کسی حد تک مطمئن ہو کر گئے۔ میں نے دل میں آپ کی حفاظت و طول عمر کی دعا کی۔ یہ آخری ملاقات تھی۔ میں لاہور سے باہر تھا کہ کسی نے فون کر بتایا کہ مولانا طالب حسین کرپالوی شہید کر دیے گئے ہیں۔ 7, جولائی، 1997ء یوم شہادت ہے۔ امام بارگاہ، کرپالہ، ضلع، فیصل آباد میں آسودہ خاک ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان کے درجات بلند فرمائے، آمین ثم آمین
بہت لکھنا چاہتا تھا مگر لکھ نہ سکا
پسماندگانبیوہ
تین بیٹے
تین بیٹیاں
حوالہ جات
بحوالہ : ہفت روزہ ’’رضا کار ‘‘ لاہور پاکستان ،07 جولائی منگل، 2020۔
تحریر: ۔ سید نثار علی ترمذی،
شئیر کریں:

This function has been disabled for مرکز احیاء آثار بر صغیر.