علامہ ڈاکٹر کلب صادق


علامہ ڈاکٹر کلب صادق مرحوم

علامہ ڈاکٹر کلب صادق ۔۔ ایک عظیم عالم ، ایک عظیم سماجی رہنما

تعارف نامہ
علامہ ڈاکٹر کلب صادق مرحوم
حالات زندگیڈاکٹر کلب صادق بھی مرحوم ہو گئے۔1980ء کی دہائی میں سید العلماء علی نقی نقوی اعلی اللہ مقامہ کی نے مجالس کو جو پیمانہ ذہن میں بنا دیا تھا کم ہی مقررین اس تک پہنچ سکے۔ جب آپ کا آنا موقف ہوا تو یہ قلق ہی رہا۔ لیکن اللہ تعالیٰ کے خزانے میں کیا کمی ہے۔ وہاں تو ایک سے بڑھ کر ایک نگینہ موجود ہے۔
ایک دن کسی نے بتایا کہ ماڈل ٹاؤن میں ڈاکٹر کلب صادق مجلس سے خطاب کریں گے جو کہ سید العلماء کے عزیز بھی ہیں۔ اسی شوق میں کہ مجلس سننے پہنچ گئے۔ کسی کی رہائش گاہ پر مجلس تھی۔ عصر کا وقت تھا۔ ڈاکٹر کلب صادق رونق افروز منبر ہوئے۔ پہلی جھلک سے تو مایوسی ہوئی۔ منحننی سا جسم، نہ عبا نہ عمامہ اور خشخشی سی داڑھی۔ بھلا یہ کیا تقریر کریں گے کئی مرتبہ دل میں سوچا۔ آپ نے انتہائی سادہ انداز میں حضرت علی علیہ السلام کے دور حکومت پر بات کی اور اس حکومت کی خوبیوں کو بیان کیا۔ مولا علی کا ذکر ہو مولائی نعرے نہ لگائیں یہ ہو نہیں سکتا۔ آپ نے حضرت علی علیہ السلام کے دور حکومت کو انتہائی خوبصورت انداز میں حکومت اسلامی سے تطبیق دی تو دل عش عش کر اٹھا۔ بس اس دن سے آپ میرے پسندیدہ مقررین کی فہرست میں شامل ہو گئے۔ وہ جب لاہور تشریف لاتے تو میں ضرور سماعت کرتا۔ باب علم فاؤنڈیشن کے سلسلہ مجالس میں بھی جن مجالس سے آپ نے خطاب کرنا ہوتا انہی مجالس میں شریک ہوتا۔ میرے بچوں کو بھی آپ پسند تھے کیونکہ جو یہ کہتے ہیں وہ سمجھ میں آتا ہے۔ ایک مرتبہ برادر ثاقب اکبر کراچی میں عشرہ محرم گزار کے اے تو ایک کتاب کا مسودہ ان کے پاس تھا۔ بتایا کہ ڈاکٹر کلب صادق نے قرآن و سائنس کے موضوع پر مجالس سے خطاب کیا۔ اہمیت کے پیش نظر ان کی تمام تقاریر کو تحریر کر دیا ہے اب اسے چھپوانا ہے۔ یوں یہ تقاریر کا مجموعہ مصباح القرآن ٹرسٹ نے شائع کیا۔

ڈاکٹرکلب صادق ایک بین الاقوامی شہرت یافتہ اسلامی اسکالر،مفکر،مصلح، ماہر تعلیم اور مبلغ تھے۔وہ لکھنؤ، کے ایک انتہائی معزز شیعہ خاندان المعروف خاندان اجتہاد میں۲۲؍جون 1939ء کو پیدا ہوئے تھے۔آپ کے والد کلب حسین اپنے وقت کے مشہور عالم دین تھے۔مولانا کے بھائی مولانا کلب عابد بھی اسلامی اسکالر اور مبلغ تھے۔ان کے بیٹے مولانا کلب جوادہیں جو مولانا کلب صادق کے بھتیجے ہیں۔

اپ کی ابتدائی تعلیم مشہور مدرسہ سلطان المدارس میں ہوئی تھی۔ اس کے بعد وہ علی گڑھ چلے گئے اور وہاں انھوں نے عربی ادب میں پی․ایچ․ڈی․ کی۔ عربی کے علاوہ آپ کو اردو،فارسی،انگریزی اور ہندی زبانوں پر عبور حاصل تھا۔ اسلامی تعلیمات سے متعلق لکچر دینے کے لیے انھوں نے پوری دنیا کا سفر کیا ہے۔ان کے پرستاروں میں تمام مذاہب کے پیروکار شامل ہیں۔ آپ مسلمہ شیعہ مسلک سے تعلق رکھنے کے باوجود تمام اسلامی فرقوں میں یکساں طور پر قابل احترام دیکھے جاتے ہیں اور بھارت کی سب سے بڑی سماجی و مذہبی تنظیم ’آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ‘کے نائب صدر کے عہدے پر فائز رہے ہیں۔
آپ کو ہندو اور مسلمانوں، شیعوں اور سنیوں کے مابین فرقہ وارانہ ہم آہنگی کے ایک بڑے داعی کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔ لکھنؤ شیعوں اور سنیوں کے مابین فرقہ وارانہ تشددکے لیے جانا جاتا تھا خاص طور پر محرم کے دنوں میں۔لیکن ڈاکٹر کلب صادق کے اقدام اور مستقل کاوشوں سے دونوں مسالک کے مابین اعتماد سازی کے متعدد اقدام اٹھائے گئے ہیں اور خدا کے فضل و کرم سے حالات بہت بہتر ہو گئے۔
آپ نے تمام مسائل کا انتہائی گہرائی سے جائزہ لیا اور اس نتیجہ پر پہنچے کہ ہمارے مسائل کا ایک بڑا سبب جہالت ہے۔ آپ نےجہالت کے اندھیروں کو دور کرنے کے لیے پوری زندگی وقف کر دی۔

یہ ان کی زندگی کا مقصد بن گیا۔انہوں نے معاشرے میں تعلیمی تحریک شروع کی اور جہالت کے اندھیروں کودور کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔18؍اپریل 1996ءکوانہوں نے ضرورت مند اور غریب طلباء کو تعلیمی امداد اور وظائف دینے کے لیے’توحید المسلمین ٹرسٹ(TMT) قائم کیا۔
یہ ٹرسٹ اب پورے بھارت میں بہت سارے اسکول، کالج، تکنیکی انسٹی ٹیوٹ،خیراتی اسپتال، مفت تعلیم کے پروگرام چلا رہا ہے اور ہزاروں کے قریب طلباء کو وظائف مہیا کر رہا ہے۔اس عرصہ میںT.M.T.کے وظائف سے ہزاروں افراد فائدہ اٹھا کر اب ایک کامیاب زندگی گزار رہے ہیں۔

مولانا ڈاکٹر کلب صادق خاص طور پر’’ T.M.T’sمفت تعلیم پروگرام‘‘ کے ساتھ منسلک ہیں معاشرے کے انتہائی مستحق اور پسماندہ طلبہ کومعیاری تعلیم، آمدورفت،یونیفارم،اسٹیشنری، کتابیں وغیرہ بالکل مفت فراہم کراتا ہے۔اس پروگرام کے تحت لکھنؤ، الہ آباد، جونپور،علیگڑھ، مراد آباد،جلال پور،بارہ بنکی وغیرہ جیسے بھارت کے مختلف شہروں میں طلبا معیاری تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔

اس پروگرام کے تحت ڈاکٹر کلب صادق نے لکھنؤ میں ایک مکمل مفت تعلیمی مرکز قائم کیا ہے جو’ یونٹی مشن اسکول‘ کے نام سے جانا جاتا ہے یہاں جوطلبا زیر تعلیم ہیں اور ان کے تمام اخرجات بشمول کتابیں،کاپیاں اور یونیفارم TMTمہیا کراتی ہے۔
یہ بات ڈنکے کی چوٹ پر کہی جا سکتی ہے کہ سر سید احمد خاں کے بعدکسی بھی مسلم رہنما نے، مسلم معاشرے میں جدید تعلیم اور سائنسی مزاج پھیلانے کی اتنی کوشش نہیں کی جتنی ڈاکٹر کلب صادق نے کی ہیں۔یہی وجہ ہے کہ لوگ ڈاکٹر کلب صادق کو دوسرا سر سید کہنے لگے ہیں۔

ڈاکٹر صادق کی قابل رہنمائی اور نگرانی میں چلنے والی تعلیمی،رفاہی اور تعمیری منصوبوں میں شامل ہیں:
۱) توحیدمسلمین ٹرسٹ
۲) یونٹی کالج ، لکھنؤ
۳) یونٹی مشن اسکول ،لکھنؤ اور
۴) یونٹی انڈسٹر یئل ٹریننگ سنٹر، لکھنؤ
۵) یونٹی پبلک اسکول، الہ آباد
۶) ایم․یو․کالج ،علی گڑھ
۷) یونٹی کمپیوٹر سنٹر، لکھنؤ
۸) حنا چیریٹبل ہاسپٹل، لکھنؤ
۹) توحیدالمسلمین میڈکل سنٹر،شکار پور
۱۰) توحیدالمسلمین بیواؤں کی پنشن اسکیم
۱۱) توحیدالمسلمین یتیموں کی تعلیم کا بندوبست
۱۲) یونٹی فری ایجوکیشن پروگرام لکھنؤ، جونپور، جلالپور،الہ آباد، بارہ بنکی، مراد آباد اور علی گڑھ۔
۱۳) حضرت مولانا کلب صادق’ایرا میڈکل کالج ‘ کے صدر اور جنرل سکریٹری آف آل انڈیا شیعہ کانفرنس رہے اس کے علاوہ اپ انجمن وظیفہ سادات و مومنین کے بھی سر گرم محرک و رکن رہے۔
انہوں نے اپنی پوری زندگی اس مشن کو جاری رکھا۔وہ صرف ایک موضوع پر بات کرتے ہیں اور وہ ہے ’تعلیم‘ اس کے علاوہ مولانا کسی بھی موضوع پر بات نہیں کرتے خصوصاً آپ نے اختلافی مسائل کو اپنا موضوع نہیں بنایا۔
جدید وسائل ابلاغ نے فاصلے ویسے ہی کم کر دئیے ہیں جس کی وجہ سے آپ کی بہت سی تقاریر سننے اور سرگرمیوں سے آگاہی ملتی رہی۔ آپ کی بیماری و صحت یابی کی خبریں بھی تواتر سے آ رہی تھیں۔
چند دن پہلے کی بات ہے کہ بیٹی نے بتایا کہ آپ کے پسندیدہ مولانا کا انتقال ہو گیا ہے۔ فوراً تصدیق کے لیے سرچ کی تو معلوم ہوا کہ یہ جعلی خبر ہے۔ مگر اب تو ان کا جانا ہو ہی گیا اور وہ 24 نومبر 2020ء کو اس دنیا سے کوچ کر گئے۔
ناصر کاظمی نے آپ جیسے لوگوں کے لیے کہا ہے:-
یہ آپ ہم تو بوجھ ہیں زمین کا
زمیں کا بوجھ اٹھانے والے کیا ہوئے
رحلت24 نومبر 2020 بروز منگل اس دنیا سے رحلت کر گئے
حوالہ جات
بحوالہ : ہفت روزہ رضا کار لاہور، 25نومبر بروز بدھ۔2020۔
تحریر : سید نثار علی ترمذی۔
نوٹ۔ اس مضمون کی تیاری کے لیے جناب اقبال احمد خان، انڈیا کے مضمون سے بھی استفادہ کیا ہے۔
شئیر کریں:

This function has been disabled for مرکز احیاء آثار بر صغیر.