علامہ سید مرتضی حسین فاضل لکھنوی


علامہ سید مرتضی حسین فاضل لکھنوی (ماہر غالبیات و انیسیات )

علامہ سید مرتضی حسین فاضل لکھنوی (ماہر غالبیات و انیسیات )مولانا مرتضی حسین فاضل کی ادب پروری
تعارف نامہ
علامہ سید مرتضی حسین فاضل لکھنوی (ماہر غالبیات و انیسیات )
حالات زندگی خدائے بزرگ و برتر آل عبا کے صدقے میں علامہ سید مرتضی حسین فاضل لکھنوی کو غریق رحمت کرے ۔ (آمین )جن سے میری ملاقات پہلی مرتبہ 13 جنوری 1987 ء کو ڈاکٹر کلب صادق کے شریعت کدے پر لکھنؤ میں ہوئی تھی ۔ علامه موصوف مشہور عالم دین آقائے شریعت مولانا کلب عابد صاحب قبلہ مرحوم کی مجلس چہلم کے سلسلے میں لکھنو تشریف لائے تھے ۔ راقم حروف بھی تاریخ مذکورہ کو صبح نو بجے ڈاکٹر کلب صادق کی خدمت میں مولانا کلب عابد صاحب مرحوم کی تعزیت اور پرسے کے لئے حاضر ہوا تھا ۔ میں نے وہاں ایک اور عالم دین کو دیکھا انہیں دیکھ کر مجھ پر رعب طاری ہوا ۔ ڈاکٹر موصوف نے تعارف کرایا اور فرمایا کہ یہ علامہ سید مرتضی حسین فاضل لکھنؤی ہیں ۔ یہ سنتے ہی ہاتھ پیر پھولنے لگے ۔ اور آناً فاناً ماتھا ٹھنکنے لگا ۔ میں ان کی صورت سے بالکل نا آشنا تھا ۔ صرف ان کی نگارشات اور تصنیفات سے واقف تھا ۔ مجھے یہ ہرگز معلوم نہیں تھا کہ علامہ عالم دین بھی تھے ۔ میں انہیں ایک محقق اور ادیب سمجھتا تھا ۔ جنہیں غالبیات انیسیات اور دبیریات میں بڑی مہارت حاصل تھی ۔ ہم دونوں میں صرف ادبی رشتہ تھا ۔ اور دونوں نقوش لاہور میں لکھتے تھے ۔ اور دونوں ایک دوسرے کی صورت سے بالکل اجنبی تھے ۔ علامہ کی نگارشات کو میں ہمیشہ پسندیدہ نگاہوں سے دیکھتا تھا ۔ ان کی تحقیق ٹھوس بنیادوں پر ہوتی تھی ۔ اس لئے میں ان کے کارناموں سے زیادہ مانوس تھا ۔ ایک دفعہ میں نے ان کے بارے میں لاہور سے دریافت کیا تھا ۔ تو ایک صاحب نے مجھے لکھا کہ سید مرتضی حسین صاحب لاہور کے میوزیم میں اسسٹنٹ ڈائریکٹر ہیں اس لئے میرے ذہن میں یہ بات تھی کہ موصوف بھی ہماری طرح کوٹ پتلون پہنے ہوں گے ۔ اب تو میں نے جو عبا، قبا اور بڑا عمامہ پہنے دیکھا تو میری حیرت کی انتہا نہ رہی ۔ میں نے ہاتھ جوڑ کر ان کی خدمت میں معافی مانگی ۔ کیونکہ میں نے ان کی تحریروں پر کئی مرتبہ تنقید کا لہجہ قدرے تیز رکھا تھا ۔ اس پر مولانا مسکرائے، کھڑے ہوئے اور مجھے گلے لگایا ۔ جتنی دیر تک ہم وہاں بیٹھے رہے ۔ میری چشم تصور میں گویا علامہ مفتی محمد عباس قبلہ گھوم رہے تھے ۔ مرزا غالب علامہ مفتی صاحب کا بے حد احترام کرتے تھے ۔ اور عالم و فاضل ادیب بھی سمجھتے تھے ۔ مفتی صاحب شاعر بھی تھے ۔ اور سید تخلص کرتے تھے ۔ وہ بھی علامه فاضل کی طرح اردو کے ادیب تھے ۔
علامہ سید مرتضی حسین میرے لئے اپنی کچھ تصانیف بھی لائے تھے ۔ ڈاکٹر کلب صادق صاحب سے ہم دونون رخصت ہو کر جناب ڈاکٹر شبیہ الحسن صاحب کے گھر گئے ۔ فاضل صاحب قبلہ وہیں قیام فرماتے تھے ۔
یہاں سے ہم ڈاکٹر نیئر مسعود صاحب کے مکان پر گئے ۔ ان سے ویزا میں ایک ہفتے کی معیاد بڑھانے کے لئے جناب گوپی چند نارنگ صاحب جناب ڈاکٹر خلیق انجم صاحب اور جناب مالک رام صاحب کے نام فاضل صاحب کے لئے سفارشی خطوط بھی لکھواۓ ۔ 15 جنوری علامہ دہلی سے واپس آ گئے اور ہم سے فرمایا کہ میں سفارت خانے پر گیا۔ اور انہوں نے فوراً ویزا کی معیاد بڑھادی دی ۔ موصوف اپنے چند روز قیام لکھنؤ میں ندوۃ العلماء کے کتب خانے بھی گئے تھے ۔ ایک قلمی نسخہ بیماری کے عالم میں دیکھنے کے لئے آزاد لائبریری علی گڑھ بھی گئے تھے ۔ مرحوم مجلسیں بھی خوب پڑھتے تھے۔مولانا کلب عابد مرحوم کے ایصال ثواب کے لئے ایک مجلس سلطان المدارس میں پڑھی ۔ راقم الحروف بھی مجلس میں موجود تھا ۔ علمی مجلس تھی ۔ جو کچھ پڑھا ، قرآنی نکات سے اسے ثابت کیا ۔ 25 جنوری لکھنؤ سے بذریعہ ہوائی جہاز واپس چلے گئے ۔ یکم مارچ مجھے ذیل کا خط لاہور کے ہسپتال سے لکھا تھا ۔
“میں لکھنؤ سے گرتا پڑتا لاہور پہنچا اور گھر سے دو دن بعد آج کی یکم مارچ ہے اور میں ہسپتال کے ایک صاف شفاف روشن خصوصی کمرے میں ہوں ۔ ابھی تک نہیں معلوم کب چھٹی ملے گی ، ورم اور اسہال پھر اسہال کے خاتمہ پر درد گردہ ۔ ان دونوں ٹیسٹوں کے نتیجہ اور ڈاکٹر صاحب کے فیصلے کا انتظار ہے ۔ علیل پہلے تھا مگر لکھنو پہنچ کر جو حالت ہوئی ہے ۔ اس حالت تک کبھی نہیں پہنچا تھا ۔ آخر کار وہاں نہ ملاقاتیں کر سکا نہ مطالعات، نہ میل جول، نہ خرید کتب۔ انتہا یہ ہے کہ آپ جیسے دوست دار کے ساتھ ملاقات اور گفتگو سے بھی محروم رہا۔ تذکرہ میر حسن اور دبستان دہلی لکھنؤ پر جواد زیدی صاحب کی کتاب حاصل نہ کر سکنے کا بے حد دکھ لے کر پلٹا۔ آپ کا پتہ بھی معلوم نہیں ۔ نیئر صاحب کو زحمت دے رہا ہوں ۔ وہ آپ تک پہنچائیں گے ۔ آپ کے خطوط پوسٹ کر دیئے ۔ عبدالله قریشی صاحب کی کتاب گھر جاؤں گا تو مجبورا ” پوسٹ کروں گا ۔ خود نہ مل سکوں گا ۔ سب کو سلام و امیدوار دعا ( سید مرتضی حسین فاضل )”
ایک اور خط مورخہ 3 مئی 1986 ء میں لکھتے ہیں ۔
محتری و مکرمی ڈاکٹر صاحب
سلام و رحمت
“ میں لکھنؤ سے آکر ایسا بیمار ہوا کہ صاحب فراش ہو گیا ۔ ہسپتال میں رہا ڈاکٹروں کی رہین کرم و تختہ عشق و محبت رہا ۔ مرض بڑھتا ہی گیا ۔ اب ڈیڑھ ماہ سے طبیب کا علاج شروع کر رکھا ہے ۔ ورم ، اسهال ، ضعف بدن ضعف چشم نے چلنا بند کر دیا ۔ کیا پڑھنا اور کیا لکھنا ۔ آپ کی کتاب عبدالله قریشی صاحب کو اور خط بذریعہ ڈاک احباب کو بھیج چکا۔ یہ خط 27 اپریل کا جواب ہے ۔ مطالعہ کتاب اور اظہار نظر کا شکریہ۔ بھائی اگر مجلس کی تصویر بھیج دیں تو تاریخ ہو جائے ۔
میں اپنی آخری اور تازہ تصویریں بھیج رہا ہوں ۔
آخر میں عید الفطر کی مخلصانہ تبریک عرض ہے ۔ اللّہ آپ کو مزید علمی کام کرنے کی ہمت فرمائے ۔ بچوں کو دعائیں ۔
فقط
مرتضی حسین
مرتضی حسین فاضل قبلہ نے ان دونوں خطوں میں عبداللہ قریشی کا ذکر کیا ہے ۔ یہ ماہر اقبالیات مولوی محمد عبداللہ قریشی ہیں ۔ میں نے فاضل صاحب کو ان کے لئے اپنی کتاب “ تحقیقات حیدری ” پہنچانے کے لئے دی تھی ۔ محمد عبداللہ قریشی نے مجھے خط میں لکھا کہ کتاب لے کر خود فاضل صاحب ان کے پاس گئے تھے ۔ اسی طرح جاوید طفیل ایڈیٹر نقوش لاہور نے اپنے ایک خط میں راقم الحروف کو لکھا تھا کہ سید مرتضی حسین فاضل خط لے کر دفتر نقوش به نفس میں آئے تھے ۔ بقیه خطوط انہوں نے کراچی اور اسلام آباد ٹکٹ لگا کر پوسٹ کئے تھے ۔ جس تصویر کا ذکر انہوں نے اپنے خط میں کیا تھا ۔ وہ مولانا کلب عابد صاحب مرحوم کی مجلس چہلم میں لاکھوں کے مجمع میں غفراں مآب امام باڑہ لکھنو میں جا کے اتروائی تھی ۔ اس خط کے بعد ہی وہ مولانا کو بھیجی گئی تھی جو اپنی تصویریں انہوں نے مجھے بھیجی تھیں ۔ وہ واقعی ان کی آخری اور تازه تصویریں تھیں ۔ ان میں سے ایک تصویر پر انہوں نے اپنے ہاتھ سے نام کے ساتھ 21 مارچ 1987 ء کی تاریخ بھی لکھی تھی ۔
قلم میں اتنا دم کہاں تھا کہ ہم علامہ سید مرتضٰی فاضل لکھنؤی کی موت کے بارے میں کچھ لکھیں ۔ مولانا اعلٰی اخلاق و صفات کے پیکر تھے ۔ ان کا انتقال 23 اگست بروز شنبہ1987ء کو صبح نو بجے لاہورکے ہسپتال میں ہوا ۔ ان کے چہلم کے سلسلے میں 18 اور 19 اکتوبر کو دو روزہ سیمینار کا اہتمام بھی کیا گیا تھا ۔ سیمینار کے علاوہ “بزم فاضل ” کے نام سے ایک یادگار کمیٹی زیر سرپرستی ڈاکٹر عبادت بریلوی قائم کر دی گئی ۔
علامہ فاضل لکھنوی نے 1947 ء میں سلطان المدارس لکھنؤ سے صدر الافاضل کی سند حاصل کی تھی ۔ انہیں عربی فاری ، حدیث ، تفسیر، فقہ، رجال اور دیگر علوم و فنون میں بڑی مہارت حاصل تھی ۔ تقسیم ہند کے بعد پاکستان آ گئے اور لاہور میں مقیم رہے ۔ یہاں کے بڑے بڑے محققین اور ادیبوں سے رابطہ بڑھایا ۔ جن میں صوفی غلام مصطفی تبسم ،مولانا غلام رسول مہر ،شیخ محمد اکرام ،سید عبداللّہ ، حکیم محمد یوسف حسن ایڈیٹر نیرنگ خیال لاہور، محمد طفیل ایڈیٹر نقوش لاہور، سید عابد علی عابد آغا محمد باقر قابل ذکر ہیں ۔ فاضل صاحب نے پنجاب یونیورسٹی لاہور کتب خانہ خوب کھنگالا تھا آپ کے مضامین ماه نو کراچی، صحیفہ لاہور، نقوش لاہور، سہ ماہی اردو کراچی ، افکار کراچی اور آج کل دہلی وغیرہ میں چھتے تھے ۔ ایران گئے تو وہاں “ توحید ” کے ایڈیٹر کی حیثیت سے کام کیا ۔ قرآن مجید کی تفسیر بھی لکھ رہے تھے ۔ موصوف کی کتابیں ہندوستان میں نہیں مل رہی ہیں ۔ اس لئے چند کتابوں کے بارے میں روشنی ڈالی جاتی ہے ۔
مطلع انوار ناشر خراسان اسلامک ریسرچ سنٹر کراچی کل صفحات 768 سے علمائے شیعہ کا ضخیم تذکرہ ہے ۔ جسے مولانا نے کم و بیش پندرہ سال کے عرصہ دراز میں مکمل کیا تھا ۔ یہ تذکرہ لکھنے کی فرمائش جن لوگوں نے کی تھی ان میں مولوی محمد شفیع صدر اردو دائرہ معارف اسلامیہ پنجاب یونیورسٹی لاہور اور ماہر غالبیات و اقبالیات جب شیخ محمد اکرام صاحب قابل ذکر ہیں ۔ شیخ محمد اکرام نے اس کام کے لئے نجوم السماء مستعار دی تھی ۔ علامہ مرحوم ص 22 میں لکھتے ہیں کہ :
“ ہم نے اس کتاب میں اصولاًعلماء کے احوال جمع کئے ہیں ۔ “عالم” کے معنی زمین و مکان و احوال کے لحاظ سے مختلف ہیں ۔ دینی علوم جانے والا قرآن و حدیث فقه و اصول پڑھا ہوا فقہ و علوم دین کا ماہر علوم اسلامیہ سے باخبر کسی مدرسے کا فاضل ، تفسیر، فقہ و اصول پر عبور رکھنے والا ، نجف و قم میں علوم اسلامیہ کے جاننے والے یا فقط دینی علوم سے باخبر ہی کو کہنا عام ہے ۔ لیکن ہمارے یہاں ایسے افراد ایران و عراق کی طرح بکثرت نہیں ہیں ۔ علم کا معیار جتنا بلند ہوتا جائے گا ۔ عالم کا مصداق اس قدر ممتاز قرار پائے گا ۔ اس کتاب میں “عالم” فاضل جیسے الفاظ کا استعمال اسی انداز میں ہوا ہے یعنی زمان و مکان اور سیاق و سباق کے پس منظر میں ۔ برصغیر میں انگریزوں کی آمد سے پہلے مسلمان حکمران ، ان کے وزراء و امراء چونکہ اسلام کا دم بھرتے تھے ۔ اور عموی طور پر ان کا رسمی قانون شریعت ہو تا تھا۔ قاضی اور شیخ الاسلام کا منصب ملک کا اہم منصب تھا ۔ سرکاری زبان فارسی اور علمی زبان عربی تھی ۔ مغرب اور مغربی علوم بدیسی مانے جاتے تھے ۔ ذاتی تشخص اور قومی آزادی کی حبس زدہ تھی ۔ لہٰذا نصاب تعلیم میں جن مراحل سے گزرنا ہوتا تھا ۔ وہ آج سے مختلف تھے ” ۔

تصانیف(1)۔مطلع الانوار 940 علماء پر مشتمل ہے ۔ جن علماء کا ذکر تفصیل سے ملتا ہے اور جو ادبی دنیا میں مشہور تھے وہ یہ ہیں : مولانا محمد حسین آزاد مولانا آغا باقر دہلوی ، مرزا ابوطالب اصفهانی ، شیخ ابوالفضل ، شمس الدین فقیہ ابوالفیض فیضی، علامہ تفضل حسین خان، سید العلماء غفرآں مآب رجب علی ارسطو جاہ، شیخ عبدالعلی ہروی ، سید علی ہمدانی ، سید محمد على شاد عظیم آبادی ، عنایت علی سامانوی ، فتح الله شیرازی، ملا فضلی، سلطان العلماء شیخ علی حزیں ۔
تذکره 20 جون 1975 ء کو اختتام پذیر ہوا تھا لیکن 23 جون 1981 ء تک اس میں اضافے کئے گئے ۔ آخرکار 1981 ء میں چھپا ۔ اردو اور فارسی والوں کے لئے یہ تذکرہ بہت ہی مفید ثابت ہوگا۔
( 2 ) عود ہندی :۔
یہ کتاب سید امتیاز علی تاج نے جون 1967 ء میں 58 صفحات میں مجلس ترقی ادب لاہور سے علامہ مرتضٰی
حسین فاضل سے مرتب کراکے شائع کی تھی ۔ علامہ مرحوم نے عود ہندی کا پہلا ایڈیشن جو مطبع مصطفائی میرٹھ سے 1868 ء اکتوبر میں شائع ہوا تھا، بڑی عرق ریزی سے مرتب کیا ہے ۔ پہلے ایڈیشن میں بہت سی غلطیاں رہ گئی تھیں ۔ بعد میں اس کے جتنے بھی ایڈیشن چھے تھے وہ سب غلط تھے ۔ مولانا نے اسے پہلی مرتبہ صیح اور خواشی و تعلیقات کے ساتھ خطوط غالب کے متعدد ایڈیشنوں کی مدد سے مرتب کیا ہے ۔ علامہ کو مرزا غالب کی خطوط نگاری سے بہت پہلے سے دلچسپی تھی ۔ انہوں نے غالب کے کئی خطوط پہلی مرتبہ دریافت کر کے مختلف رسائل میں وقتاً فوقتاً شائع کئے تھے ۔ یہ خطوط ڈاکٹر خلیق انجم صاحب کی کتاب ” غالب کی نادر تحریریں” اور خطوط غالب مرتبہ ڈاکٹر خلیق انجم میں دیکھے جا سکتے ہیں ۔
علامہ فاضل لکھنوی نے تصحیح میں خطوط ، تعین تاریخ ، حل اشارات کے علاوه مآخذ، فهرست مضامین خطوط اور اشاریوں کی ترتیب و تالیف میں جس قدر محنت اور دیدہ ریزی کا مظاہرہ کیا ہے ۔ وہ علم دوست حضرات کے لئے بے حد افادیت رکھتی ہے ۔
علامہ سید مرتضی حسین فاضل بلند پایہ ماہر غالبیات تھے ۔ انہوں نے دل کی گہرائیوں سے غالب کا مطالعہ کیا تھا ۔ عودہندی کے علاوہ انہوں نے درج ذیل غالب کی کتاہیں جدید اصولوں کی بناء پر مجلس ترقی ادب لاہور سے شائع کیں ۔
(1) اردوئے معلٰے حصہ اول جلد اول
(2) اردوئے معلٰے حصہ اول جلد دوم
( 3 ) اردوئے معلٰے حصہ دوم
( 4 ) کلیات فارسی جلد اول
( 5 ) کلیات غالب جلد دوم
( 6 ) کلیات نثر غالب جلد دوم
ان کتابوں کے علاوہ انہوں نے انتخاب مراثی انیس ، کلیات آتش حصہ اول و حصہ دوم اور مکاتیب مولانا محمدحسین آزاد بھی مرتب کر کے مجلس ترقی ادب لاہور سے شائع کئے علامہ کی آخری کتاب جواہر دبیر ہے ۔
جواہردبیر ۔ سائز 20×26 / 8 صفحات 562 ؛ جلد سیاه ریکسین کاغذ طباعت عمدہ اور نفیس سال اشاعت 1986 ء ناشر ۔ شیخ غلام علی اینڈ سنز انارکلی لاہور ۔
یہ علامہ مرحوم کی آخری اور معرکہ آراء تصنیف ہے ۔ اس میں مرزا دبیر کے 14 مراثی شامل کئے گئے ہیں ۔ ابتداء میں مرزا صاحب کے حالات زندگی اور ان کے فن پر عالمانہ نظر ڈالی گئی ہے ۔ ہر مرثیے کی ابتداء میں تعارف و تبصرہ، متن مرثیہ
تحقیق متن اور آخر میں فرہنگ الفاظ شامل ہے ۔ اس میں دبیر کے اچھے اور نمائندہ مرثیوں کا انتخاب دیا ہے ۔ ہر مرثیہ مکمل ہے ۔ مرثیوں کی ترتیب و تحقیق میں جس دیدہ ریزی کا مظاہرہ مرتب نے کیا ہے ۔ وہ اپنی مثال آپ ہے ۔ کتاب کی چند امتیازی خصوصیات درج ذیل ہیں ۔
1- نادر و نایاب قلمی نسخوں کی بنیاد پر ترتیب و تحقیق
2- مرزا صاحب کا صحیح کردہ نسخہ بھی سامنے رکھا گیا
3- تخلیق مرثیہ میں تاریخ متن کا تعین
4- بہیترے نئے فنی پہلوؤں کی نشاندہی
5- جدید اصولوں پر حقیقی و مطالعاتی متن کی تدوین
6- مرثیے سے پہلے اس کا مطالعہ و تجزیہ
7- مرثیے کے ساتھ مشکل الفاظ و تلمیحات کی تشریح
8- مقدے میں متعدد و نایاب اطلاعات
9- نقد و نثر میں محاسن لفظی و معنوی کا مختصر بیان الغرض جواہر دبیر کے محاسن کا شمار کہاں تک کیا جائے ۔ علامہ مرحوم کی یہ آخری تصنیف ہر لحاظ سے بلند پایہ اور قابل قدر ہے ۔ پڑھیےاور لطف اندوز ہوئیے میری رائے میں مرحوم کا یہ معرکہ آراء صحیفہ دبیریات اردو تنقیدی ادب میں ایک گراں مایہ اضافہ اور موضوع پر حاکمانہ قدرت کا شاہد عینی ہے ۔ ایسی دیدہ زیب اور پراز معلومات کتاب دبیریات میں ہماری نظر سے نہیں گزری ۔
حوالہ جات
بحوالہ : ہفت روزہ رضا کار لاہور، 16 اگست بروز اتوار۔2020۔
تحریر : ڈاکٹر اکبر حیدری کاشمیری۔
تعارف نامہ
علامہ سید مرتضی حسین فاضل لکھنوی (ماہر غالبیات و انیسیات )
حالات زندگیمولانا مرتضی حسین فاضل کی ادب پروری
مولانا سید مرتضٰی حسین صدرالافاضل لکھنوی علیہ الرحمة ایک ایسی ہمہ جہت شخصیت کہ جن کی عالمانہ، محققانہ، ادیبانہ غرض آپ کی حیات مبارک کے جس پہلو پہ بات کی جائے ، حق ادا کرنا ناممکن ہےپروفیسر عبدالکریم خالد صاحب نے آپ کی ادب پروری ایک بہت عمدہ تحریر لکھی جس میں مولانا مرتضیٰ حسین فاضل مرحوم کی ادب شناسی پہ بات کی گئی ہے۔
23اگست مولانا سید مرتضٰی حسین صدرالافاضل لکھنوی علیہ الرحمة کی برسی کے موقع پہ قارئین رضاکار کے ذوق مطالعہ کی نذر (سید انجم رضا)

مولانا مرتضی حسین فاضل مرحوم کے ہمہ جہت کارناموں کی فہرست اتنی طویل ہے کہ اس مختصرمضمون میں ان کا احاطہ کرنا ناممکن ہے ۔ مولانا کی اصل حیثیت ایک عالم دین کی ہے ۔ علوم دینیہ میں انہوں نے جو کمال حاصل کیا اس کی گواہی اُن اجازوں سے ملتی ہے جو مسلم امہ کے نامور علماء و محدثین نے انہیں عطا کئے ۔ اسی سلسلے میں ایک اہم اجازه روایت حدیث کی بنا پر مولانا شیخ الحدیث کے بلند مرتبے پر فائز ہوئے ۔ یہ وہ مقام ہے جو سوائے علمی ریاضت کے کسی کو حاصل نہیں ہو سکتا ۔ مولانا کو السنہ شرقیہ ، خصوصا ” عربی، فارسی اور اردو پر بے پناہ عبور حاصل تھا ۔ چنانچہ اس لسانی مہارت کی بنیاد پر انہوں نے ان تمام علوم تک رسائی حاصل کی جو ایک عام انسان کی دسترس سے باہر ہیں ۔ دینی علوم خاص طور پر قرآن حدیث اور فقہ کے حوالے سے مولانا کی علمی اور دینی بصیرت ان کتابوں میں کھلتی ہے جو ان کے تبحر علمی کی یادگار ہیں اور مذہبی علوم کی تاریخ میں ایک قابل قدر اثاثہ سمجھی جاتی ہیں ۔ مولانا نے جس تسلسل کے ساتھ اپنی اعلٰی ریاضتوں کو آگے بڑھایا ہے ان سے وہ ایک امتیازی علمی شان کے حامل قرار پاتے ہیں ۔ بیسویں صدی کے نصف آخر میں اس نوع کی معدودے چند مثالیں ہی نظر آتی ہیں ۔
مولانامرتضی حسین فاضل کا تعلق لکھنو سے تھا ۔ یہاں یہ بات حیرت میں ڈالتی ہے کہ علمی و ادبی سطح پر جن نامور شخصیتوں کے ہاتھوں بڑے کام سرانجام پائے ہیں وہ کسی نہ کسی حوالے سے لکھنو سے ضرور وابستہ رہی ہیں ۔ سردست ان شخصیتوں کے نام درج کرنے کا موقع نہیں لیکن علوم شرقیہ کی کوئی تاریخ اٹھا کر دیکھ لیجئے ۔ آپ کو ان کے سرے لکھنوسے ملتے ہوئے نظر آتے ہیں ۔ اسماء الرجال کی فہرست پر نظر ڈال لیجئے ہندوستان کی سرزمین پر ایک خالص علمی فضا پیدا کرنے والی شخصیتوں کا سلسلہ نسب لکھنؤ سے ہوتے ہوۓ اوپر جاتاہے بظاہر یہ بات بڑی عجیب معلوم ہوتی ہے ۔ انگریزوں کی دسترس میں لکھنؤ یا اودھ کے بارے میں لکھی جانے والی کتابوں میں لکھنو کا جو نقشہ کھینچا گیا ہے اسے دیکھیں تو لکھنؤ یہ لکھنؤ لگتاہی نہیں جس کے علمی و ادبی تذکرے کے بغیر کوئی بھی علمی و ادبی تاریخ مکمل نہیں ہو سکتی۔ مولانا مرتضی حسین جیسے علماء نے سرزمین لکھنؤ کی وہ تصویر دکھائی ہے جو بہت اجلی صاف ستھری اور خوبصورت ہے ۔ لکھنؤ کے سلطان المدارس ” سے صدر الافاضل کی ڈگری حاصل کرنے والے مولانا مرتضی حسین نے لکھنؤ کی آبرو ہی بحال نہیں کی بلکہ اسے برصغیر کے اہم ترین علمی ادبی اور تہذیبی مرکز کے طور بھی متعارف کرایا ہے ۔

مولانانے لکھنؤ سے ہی عربی اور فارسی میں ” عماد الادب ” ” عماد الکلام ” ” فاضل ادب” اور “دبیر الکلام کی اسناد بھی حاصل کیں اور یوں اپنی جودت طبع اور علمی دلچسپی کے سبب وہ اساس قائم کی جس پر ان کے اعلٰی علمی و ادبی معیارات کی عمارت بڑی مضبوطی سے استوار نظر آتی ہے ۔ مولانا ابتداء ہی سے اس نظریے پر قائم تھے کہ دنیا کا کوئی بھی علم علوم دينيه سے باہر نہیں ہے ۔ وہ دینی علوم اور مادی یا سماجی علوم کے درمیان فاصلہ رکھنے کے قائل نہیں تھے ۔ ہمارے یہاں عام طور پر مذہبی و دینی علماء کا یہ چلن رہا ہے کہ وہ ادب و شاعری کو ایک غیر ضروری سمجھ کر دائرہ اسلام سے خارج قرار دیتے ہیں ۔ ادب و شاعری سے ہٹ کر دیگر فنون لطیفہ کے بارے میں تو ان کا رویہ اور بھی زیادہ جارحانہ ہے ۔ ان کے خیال میں ہر وہ فن جس کا تعلق انسانی جذبات کیفیات یا واردات قلب سے ہے ۔ معاشرتی گمراہی اور فساد فی الارض کا ذمہ دار ہے فنون اور تخلیقات کے بارے میں یہ انتہا پسندانہ رویہ کسی طور بھی لائق تحسین نہیں ۔ عبادات کا سارا فلسفہ جذبے ‘ کیفیت اور واردات سے تعلق رکھتا ہے ان چیزوں پر قدغن لگا کر ایک سپاٹ اور بنجر زندگی کو رواج دینا دنیا کے کسی بھی مذہب کا منشا نہیں رہا ۔ مولانا مرتضی حسین اس حقیقت کو خوب اچھی طرح جانتے تھے ۔ ان کے نزدیک تخلیق و فن اور ادب و شعر کے بارے میں اپنی تنگ نظری اور تعصبات کو پروان چڑھا کر ہم سوائے ایک بنجر اور بے فیض معاشرے کے کچھ پیدا نہیں کر سکتے ۔ دین اسلام سمیت ہر مذہب کی بنیاد محبت پر استوار ہے اور محبت کا بیج ہمیشہ نرم زمین میں پھوٹتا ہے ۔ پتھریلی اور نرم زمین میں بارآور ہونے والے پودوں کا فرق صاف محسوس کیا جا سکتا ہے ۔ زمین کی روئیدگی اور زرخیزی صحت مند بیج کو قبول کرنے میں ایک لمحے کا تغافل نہیں برتتی۔ جذبوں میں سوز ‘ کیفیات میں تموج اور واردات میں گہرائی اس وقت تک پیدا ہو ہی نہیں سکتی جب تک طبیعت میں گداز اور نرمی نہ ہو ۔ ادب و شعر اور دیگر فنون لطیفہ یہی کام کرتے ہیں جن سے نانا توڑ کر ہم بنجر زمینیں کاشت کرنے کی سعی لا حاصل کر رہے ہیں ۔
بات بہت آسان سی ہے ۔ لیکن اس آسان بات کو عقده مشکل بنانے میں ہی اکثر لوگوں کا فائدہ ہے ۔ مولانا مرتضی حسین کی شخصیت میں یہ وصف موجود تھا کہ انہوں نے آسان بات کو آسان ہی رہنے دیا ۔ وہ جتنے بڑے عالم تھے اور معتقدین کا جتنا بڑا حلقہ ان کے گردا گرد موجود تھا اس میں ان کی زبان فصاحت بیان اور زور قلم محض دینی علوم کے اسرار و رموز کھولنے تک ہی محدود رہے تب بھی ان کی دانش و بینش میں سرمو کوئی فرق نہ آتا لیکن انہوں نے ” الحکمۃ ضالته المومن “ کے قول رسول پر عمل کرتے ہوئے حکمت کی تلاش میں اردو فارسی اور عربی شعر و ادب کے خزانوں کو بھی کھنگال ڈالا اور ایسے گراں بہا جواہر حکمت دریافت کئے جو ادب کی تاریخ میں ایک بیش قیمت سرمائے کا درجہ رکھتے ہیں ۔ یہاں اس امر کا تذکرہ ضروری ہے کہ مولانا کا مذہبی اور دینی حلقے سے الگ ایک علمی و ادبی حلقہ بھی تھا ۔ جس میں اولا ” انہوں نے بے خود موہانی ، محشر لکھنؤی، تمنا لکھنؤی یاس یگانہ چنگیزی ، مسعود حسن رضوی ادیب اور حکیم صاحب عالم کے فیض قربت سے استفادہ کیا۔

ثانیاً ڈاکٹر عبارت بریلوی امتیاز علی تاج مولانا غلام رسول مہر پروفیسر حمید احمد خان ، پروفیسر وزیر الحسن عابدی ، ڈاکٹر آغا سہیل صادق علی دلاوری ، ڈاکٹر سید صفدر حسین محمد شفیع دہلوی ، سید عابد علی عابد احمد ندیم قاسمی، ڈاکٹر سید عبداللّہ، ڈاکٹر وحید قریشی ، سید سجاد رضوی اور وحید الحسن ہاشمی جیسے صاحبان فکر و فن کے حلقے میں رہ کر اپنی علمی و ادبی شناخت قائم کی ۔ مولانا مرتضی حسین فاضل کے حلقہ احباب میں شامل ہے اور شخصیتیں ان کے علمی مقام و مرتبے کی نہ صرف قائل تھیں بلکہ لسانی اور ادبی مسائل پر ان کی رائے کو معتبر سمجھتی تھیں ۔ ان خاص علمی و ادبی شخصیتوں کی قربت سے یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ مولانا نے ایک زاہد خشک یا واعظ منبر بننے کے بجائے اپنے لئے جو زندگی پسند کی اس میں قدرت کی جلوہ گری کو دیکھنے کے ہزار رنگ موجود تھے ۔ سید سجاو رضوی صاحب لکھتے ہیں :
“مرتضی حسین عالم دین تھے لیکن ان کے تصور دین میں جلال و جمال دونوں شامل تھے ۔ جہاں وہ فقہ اور اصول دین کے درس دیتے تھے وہاں وہ ادب و فن کے استحسان پر بھی لوگوں کی توجہ مبذول کراتے تھے ۔ وہ آج کل کے ابل منبر کی طرح زبانی جمع خرچ کے قائل نہیں تھے ۔ انہوں نے صرف رسمی علوم دین پر کتابیں نہیں تھیں بلکہ ان کی کتابوں کا معتدبہ حصہ ادبی کاوشوں پر مشتمل ہے “
مولانا مرتضی حسین کی ادبی کاوشوں کے حوالے سے ان کی شخصیت کا جو رخ ہمارے سامنے آتا ہے وہ جمالیاتی پہلو لئے ہوئے ہے ۔ ان کی وضعداری تهذیب اور شائستگی ان کے اسی جمالیاتی پہلو کی رہین احسان ہے ۔ ڈاکٹر عبادت بریلوی صاحب مولانا کو لکھنوی تہذیب کا ایک مثالی نمونہ قرار دیتے ہوئے ان کی و ضعداری ، تہذیب اور شائستگی کا بطور خاص ذکر کرتے ہیں جس میں مرتے دم تک کوئی فرق نہیں آیا ۔ اس سلسلے میں ڈاکٹر صاحب مولانا کی ادب پروری کا حوالہ دیتے ہوئے رقمطراز ہیں : مولانا ہم لوگوں سے زیادہ تر ادبی موضوعات پر باتیں کرتے تھے غالب ان کا خاص موضوع تھا ۔ غالب پر ان کی معلومات قابل رشک تھیں ۔ انہوں نے غالب کی کئی تصانیف کو بڑی محنت اور سلیقے سے مرتب کیا ۔ ویسے دوسرے اردو اور فارسی شاعروں سے بھی انہیں دلچسپی تھی اور وہ ان کی شاعری کے بارے میں نہایت دلچسپ باتیں کرتے تھے ۔ مولانا کا زیادہ وقت علمی ادبی کاموں میں گزرتا تھا۔انہوں نے اپنی زندگی کا ایک لمحہ بھی ضائع نہیں کیا ۔ یہی وجہ ہے کہ انہوں نے ایسی تصانیف چھوڑی ہیں جن سے ادب سے بھی رکھنے والے ہمیشہ ہمیشہ استفادہ کرتے رہیں گے ” ۔
ڈاکٹر عبادت بریلوی صاحب کی ان سطور سے مولانا کی ادبی زندگی کے تمام خدوخال واضح ہو کر ہمارے سامنے آجاتے ہیں ۔ اس پس منظر میں چند دیگر اکابرین کی آراء بھی ملاحظہ کیجئیے۔

ڈاکٹر شارب ردولوی صاحب کہتے ہیں: انہوں نے علم و اوب پر جتنا کام کیا ہے اس زمانے میں کسی اور نے اتنا کام نہیں کیا ہو گا ۔ غالب اور مطالعه غالب پر ان کی جو نگاہ تھی اس کا زمانہ قائل ہے ” ۔
ڈاکٹر خلیق انجم صاحب لکھتے ہیں :
” پاکستان کے ادب شناسوں کی صف اول میں ان کا شمار ہوتا ہے ۔ انہوں نے غالب کے خطوط کے متن کی ترتیب میں جس دیدہ ریزی سے کام لیا اور بھی جان کھپائی وہی ان کی سرخروئی کے لئے کافی ہے ” ۔
ڈاکٹر سجاد باقر رضوی رقمطراز ہیں : ۔
مولانا مرتضی حسین فاضل سے میری پہلی ملاقات بحثیت محقق اور ادیب ہوئی ۔ تحقیق ، تدوین اور لغت سازی میں ان کی حیثیت مسلم ہے ۔ مجلس ترقی ادب اور شیخ غلام علی اینڈ سنز کے لئے انہوں نے بہت عرق ریزی کے ساتھ علمی و تحقیقی کام سرانجام دیئے جو نہایت وقیع ہیں ” ۔
احمد ندیم قاری کے الفاظ میں ::
سید مرتضی حسین انتہائی محنت کے ساتھ تحقیق کی آخری حدود تک جانے والے دانشور عالم اور نقاد تھے ۔ وہ ایسے شخص تھے جن کا کام بہت بڑا تھا لیکن وہ اس کے لئے چھوٹا سا دعویٰ کرنے کے بھی قائل نہ تھے ۔ وہ ہمیشہ اپنی کتابوں میں زندہ رہیں گے ” ۔
ڈاکٹر وحید قریشی صاحب لکھتے ہیں :
ادب میں بھی ان کا نام ہمیشہ زندہ رہے گا خصوصا ” غابات میں انہوں نے تحقیقا کا جو معیار پیش کیا ہے اس سے ہمیشہ غالبیات کے محقیقین فائدہ اٹھاتے رہیں گے ” ۔
ڈاکٹر آغا سہیل صاحب کی سطور ملاحظہ ہوں :
وہ غالبیات ” کے بہت بڑے ماہر تھے ۔ انہوں نے غالب کی شاعری کو جس وسعت نظر سے دیکھا اس کی دوسری مثال مشکل ہی سے ملے گی ۔ تحقیق کے فن میں مولانا ایک مستند حیثیت کے حامل تھے
ڈاکٹر خواجہ محمد زکریا صاحب لکھتے ہیں :
مولانا سید مرتضی حسین قاضل لکھنؤی ایک نامور علمی و ادبی شخصیت تھے ۔ ان کی اپنی کاوشیں ناقابل فراموش ہیں جن سے میں اور میرے جیسے ادب دیگر قارئین استفادہ کر رہے ہیں اور برابر مستفید ہوتے رہیں گے ۔ غالب اور محمد حسین آزاد کے مکاتیب کو انہوں نے جس سلیقے صحت اور محنت سے مرتب کیا ہے اور نہایت قابل قدر حواشی کے اضافہ سے شائع کرایا ہے۔

وہ ایسے نہیں کہ جن سے اردو ادب کا کوئی باذوق قاری صرف نظر کر سکے ” ۔
درج بالا آراء میں اکابرین ادب نے مولانا کی ادبی خدمات کے سلسلے میں بطور خاص غالب پر ان کے قابل قدر تحقیقی کام کا حوالہ دیا ہے ۔ غالب کے ساتھ اپنی خصوصی دلچسپی کا اظہار مولانا نے خود بھی ایک جملہ کیا ہے وہ لکھتے ہیں : غالب پر میں نے اپنی زندگی کے کم و بیش تیس سال اور ہزاروں روپے صرف کیے۔ تب کہیں اس تحقیقی کام کا ایک حصہ مکمل ہوا اور کلیات غالب (فارسی) اردوۓ معل٘ی عود ہندی کے علاوہ بہت سے مقالات و رسائل لکھے جو چھپ چکے ہیں ” ۔
اس امر میں کوئی شبہ نہیں کہ غالب ( خصوصاً نثر غالب ) پر مولانا کا تحقیقی کام اتنا وقیع ہے کہ اس کی مثال پیش کرنا مشکل ہے ۔ خطوط غالب کے سلسلے میں مولانا نے نہ صرف غالب کے کئی خطوط از سرنو دریافت کئے بلکہ اردو معلٰی میں شامل خطوط کو تصیح متن ، تعین تاریخ اور اہم حواشی کے ساتھ دو حصص پر مشتمل تین جلدوں میں شائع کرایا ۔ اردو معلی کا صدی ایڈیشن 1969 ء میں مجلس ترقی ادب لاہور نے شائع کیا ۔ اردوئے معلی کی ترتیب و تدوین میں مولانا نے جدید اصول تحقیق کی روشنی میں خطوط کے مضامین کی فہرست اور اشارے بھی ترتیب دیئے ہیں اور اس کے ساتھ ہی تمام ماخذات کا اندراج بھی کیا ہے ۔
غالب کے حوالے سے مولانا کا دوسرا کارنامہ ” عود ہندی کی ترتیب و تدوین ہے جسے مولانا نے 1868 ء کے پہلے ایڈیشن کی بنیاد پر…

مولانا کی کتاب “آزاد پر چند مقالات ” ( غیر مطبوعه ) آزاد کی شخصیت اور فن کی بعض اہم جہتوں کو نمایاں کرتی ہے آزاد کے حوالے سے ان کی ایک اور غیر مطبوعہ کتاب مقالات آزاد کا سراغ بھی ملا ہے ۔ غالب کے بعد مولانا مرتضی حسین کو جس شاعر سے خاص دلچسپی رہی ہے وہ حیدر علی آتش ہیں ۔ 1955 ء میں انہوں نے آتش کے کلام کا انتخاب کتاب منزل لاہور نے 1957 ء میں شائع کیا ۔ آتش پر ان کی دوسری کتاب “احوال آتش و تعارف کلیات ” 1972 ء میں مجلس ترقی ادب لاہور نے شائع کی ۔ مولانا کی ایک کتاب ” سوانح و نقد آتش ” کا سراغ بھی ملا ہے ۔ جو غیر مطبوعہ ۔ ہے اور اس کا ذکر روزنامچہ 1979 ء میں موجود ہے ۔ کلیات اس کی ترتیب و تدوین مولانا کا اہم کارنامہ ہے جسے مجلس ترقی ادب لاہور نے دو جلدوں میں شائع کیا ۔ جلد اول 1973 ء میں شائع ہوئی جبکہ جلد دوم 1975 ء میں منظر عام پر آئی ۔ مولانا نے ناسخ اور ذوق کے کام کا انتخاب بھی کیا ۔ یہ دونوں کتابیں 1957 ء میں کتاب منزل لاہور کے زیر اہتمام شائع ہو ئیں ۔ ” انتخاب کلیات میرے مولا نے 1942 ء میں مرتب کیا ابھی تک غیر مطبوعہ ہے 1942 ء ہی میں انہوں نے جوش کی فلموں اور غزلوں کے مجموعہ” شعلہ و شبنم کا انتخاب بھی کیا ۔ انتخاب بھی غیر مطبوعہ ہے ۔ جوش کی نظموں کے ایک اور مجموعه آیات و نغمات ” انتخاب بھی ان آیات و نغمات ” کے نام سے کیا گیا جو غیر مطبوعہ ہے ۔ مولانا کے بعض دیگر منتخبات بھی ” گلدستہ اشعار ” ، ” گلستان سخن » « نتخب اشعار کے نام سے موجود ہیں جو ابھی تک شائع نہیں ہوئے ۔ اسی تسلسل میں ان کا ایک انتخاب بر محل اشعار ” کے نام سے 1950 ء میں شائع ہوا ۔ مولانا مرتضی حسین نے اردو مرثیے کے ذیل میں تحقیقی و تنقیدی کام سرانجام دیا ہے ۔ چنانچہ انیس اور مرثیہ ( 1976 ء فیاض پریس لاہور ) ” مرثیہ – تاریخ سے تجربہ کی طرف ( 1976 ء ، مطبع عالیہ لاہور ) منتخب مراثی صدی ایڈیشن ( 1974 ء مجلس ترقی اوب ‘ لاہور ) اور جواہر دبیر ” ( 1986 ء شیخ غلام علی اینڈ سنز لاہور ) ان کی اہم اور قابل قدر تصنیفات شمار ہوتی ہیں ۔ ان کی ایک کتاب تذکرہ مرثیہ گویاں ” کے نام کا سراغ بھی ملتا ہے ۔ جو غیر مطبوعہ ہے ۔ اردو زبان و ادب کے حوالے سے مولانا کی بعض دیگر کتب میں مثنویات حالی ( 1966 ء شیخ مبارک علی تاجر کتب ) اردو قواعد و انشاء ( 1977 ء اداره التحریر لاہور ) تاریخ ادب اردو ( 1966 ء ولی سنز پبلشرز ‘ لاہور ) تذکرہ ریاض الفردوس ( شیخ مبارک علی تاجر کتب جدید نسیم اللغات ( شیخ غلام علی اینڈ سنز لاہور ) اقبال اہل بیت کی بارگاہ میں ( غیر مطبوعہ ) انتخاب صحيفته انغرالی از صفی لکھنوی ( غیر مطبوعہ ) انتخاب مظهر عشق ( غیر مطبوعہ ) باقیات فانی سے انتخاب ( غیر مطبوعہ ) دیوان شاہی پر . ( غیر مطبوعہ ) قصیدے کا ارتقا ( غیر مطبوعہ ) میزان الشعر( غیر مطبوعہ ) ، مجموعہ بےرنگ ( غیر مطبوعہ ) شامل ہیں ۔ یہ مولانا مرتضی حسین فاضل کی اردو ادب پر لکھی گئی وہ کتابیں ہیں جو کسی نہ کسی حوالے سے دستیاب ہوئیں یا مولانا کے روزناموں اور ڈائریوں سے ان کے ناموں کا سراغ مل گیا ۔ ممکن ہے ان کی بعض ایسی کتابیں بھی ہوں جن کا نام اور سراغ نہیں مل سکا ۔ اس لئے میں مولانا کے صاجزادے سید حسین مرتضٰی اپنی زیر تالیف کتاب “بوستان فاضل”میں لکھتے ہیں

انہوں نے اپنی 64 سالہ زندگی میں علم و ادب کے مختلف شعبوں میں کم از کم تین سو دس تالیفات بطور یادگار چھوڑیں جو ان مضامین و مقالات کے علاوہ ہیں جو ہزاروں کی تعداد میں دنیا بھر کے علمی و ادبی و تحقیقی رسالوں میں روزناموں اور عربی اردو انسائیکلو پیڈیاز میں اردو عربی اور فارسی زبانوں میں شائع ہوتے رہے ہیں ۔ ان میں سے اکثر کتابیں مرحوم کے کتب خانہ میں مل گئی ہیں ۔ بعض کا تذکرہ ان کی متفرق تحریروں اور تالیفات میں لیا گیا ہے اور چند ایسی بھی ہیں جن کا نام و نشان ابھی تک نہیں مل سکا ۔
بقول سید حسین مرتضی ، مولانا کی چند کتابوں کا نام و نشان نہیں مل سکا ۔ اس کی کئی ایک وجوہات ہو سکتی ہیں تاہم سید حسین مرتضی کے نزدیک اس کا ایک سبب یہ ہے کہ : مرحوم کا دستور تھا کہ وہ کتاب کے بارے میں کبھی بھی بخل سے کام نہیں لیتے تھے ۔ انہوں نے اپنی اسی اخلاقی شان کے سبب اپنے خصوصی نسخے اور مسودے بھی احباب کو عاریتاً دینے میں کوتاہی نہیں کی اور مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ ان کے بعض احباب نے اس حد تک خیانت کی کہ ان کے اصل مسودے کو غائب کر کے اسے اپنے نام سے چھپوا دیا ۔ لیکن انہوں نے اس قسم کے ایک واقعہ کے علاوہ کسی اور واقعہ کو قلم بند کرنا مناسب نہیں سمجھا ۔
بہرحال اب یہ محققین کا کام ہے کہ وہ مولانا کے مفقود الخبر نسخوں یا مسووں کا سراغ لگائیں یا پھر خود سید حسین مرتضی صاحب مولانا کے ان احباب کی خیانت کو بے نقاب کر سکتے ہیں جنہوں نے مولانا کے مسودوں کو اپنے نام سے چھپوا دیا ۔ تاہم مولانا کی دستیاب کتابوں اور مسودات کی روشنی میں ان کے علمی و ادبی مقام و مرتبہ کا تعین بڑی آسانی سے ہو سکتا ہے ۔
یہ بات اپنی جگہ بے حد اہم ہے کہ مولانا نے اپنی اپنی مصروفیات کے باوجود اپنی زندگی کا بیشتر حصہ علم و ادب کے لئے وقف کر دیا ۔ اور تحقیق و تدوین کے میدان میں ایسے کمالات دکھائے جو ان جیسے صاحب علم و بصیرت ہی سے ممکن ہو سکتے تھے ۔ مولانا کی یہ ادبی خدمات اس لائق ہیں کہ انہیں ادب و شعر اور تحقیق کی دنیا میں قابل لحاظ مقام دیا جائے ۔ ہمارے یہاں ایسے لوگوں کی مقدار آٹے میں نمک کے برابر ہے جو مولانا کی طرح دیده ریزی کر کے تلاش و جستجو کے عمل کو آگے بڑھا سکیں ۔ کتنے لوگ ہیں جو مولانا کے راستے پر چلتے ہوئے ذہنی مشقت اور دماغ سوزی کر کے جگر کو خون کرنے کا ہنر جانتے ہیں ۔ مولانا نے فارسی اور عربی ادب کے حوالے سے جو کام کیا ہے وہ ایک الگ مضمون کا متقاضی ہے ۔ ان زبانوں کے کلاسیکی ادب کو اردو میں منتقل کر کے انہوں نے نہ صرف اردو کا دامن نئے مضامین سے بھر دیا ہے بلکہ ان زبانوں کے باہمی ربط وضبط اور لسانی و فکری آہنگ کو اور زیادہ مضبوط اور مستحکم بنا دیا۔ مولانا مرتضٰی حسین فاضل اب ہم میں موجود نہیں لیکن ان کے شاندار علمی و ادبی کارنامے ان کی یادگار ہیں جو آنے والی نسلوں کو ایک متوازن و مرتب تہذیبی شخصیت کی یاد دلاتے رہیں گے۔
حوالہ جات
بحوالہ : ہفت روزہ رضا کار لاہور، 23 اگست بروز اتوار۔2021۔
تحریر : نذر (سید انجم رضا)
شئیر کریں:

This function has been disabled for مرکز احیاء آثار بر صغیر.