علامہ سید عدیل اختر  رضوی

علامہ سید عدیل اختر رضوی


8 شوّال المکرم تاریخ کا وہ اندوہناک دن ہے جس دن نابغۂ روزگار حضرت علامہ سید عدیل اختر اعلی اللہ مقامہٗ کی وفات ہوئی۔ آپ کی ولادت آپ کے آبائی وطن قصبہ علی نگر پالی، جہان آباد، صوبہ بہار میں 1898عیسوی مطابق 1315 ہجری میں ہوئی۔ آپ کا تاریخی نام عدیل اختر تھا۔
علامہ سید عدیل اختر رضوی
حوالہ جات
تحریر: سید فیاض محسن عابدی
منجانب: ولی العصر اکیڈمی،زیر اہتمام: مکتبہ افادات علامہ عدیل اختر
تعارف:
تعلیم
استاد
شخصیت
8 شوّال المکرم تاریخ کا وہ اندوہناک دن ہے جس دن نابغۂ روزگار حضرت علامہ سید عدیل اختر اعلی اللہ مقامہٗ کی وفات ہوئی۔
آپ کی ولادت آپ کے آبائی وطن قصبہ علی نگر پالی، جہان آباد، صوبہ بہار میں 1898عیسوی مطابق 1315 ہجری میں ہوئی۔ آپ کا تاریخی نام عدیل اختر تھا۔
اس سال آپ کے فراق کے ۷۱ سال مکمل ہوگئے۔ آپ مدرسة الواعظین کے درج رجسٹر کے مطابق وہاں کے پہلے طالب علم اور دوسرے پرنسپل تھے۔ آپ نے واعظین کے زرین ابتدائی دور میں بے مثال تبلیغی دورے انجام دیکر مدرسہ کو چار چاند لگا دئے اور 1920ء سے 1936ء تک رنگون، تبّت، پشاور، افریقہ کے جزایر و ۔۔۔ جاکر تبلیغی دورے کئے اور’’ شبھای پشاور‘‘ کے عظیم تاریخی مناظرہ میں حضرت سلطان الواعظین شیرازیؒ کے شانہ بشانہ رہے، جسکا ذکر’’ شبھای پشاور ‘‘میں تفصیل کے ساتھ موجود ہے۔
پھر آپ نے 1936ء سے 1951ء تک مدرسة الواعظین میں قیام کے دوران بطور معلّم و مربی اور پرنسپل نسلوں کی تربیت فرمائی۔ مولانا نجم الحسن کرارویؒ سے لیکر مولانا شیخ محمد حیدرؒ کے دور تک طلاب کی تعلیم و تربیت میں مشغول رہے۔ مولانا سید غلام عسکری اور مرحوم مولانا سید کاظم رضا اعلی اللہ مقامہما نے بھی آپ ہی کی آغوش تربیت میں جلا پائی۔
مدرسۃ الواعظین کے علاوہ دوسرے مدارس کے طلاب نے بھی آپ کی ذات سے فیوض و برکات حاصل کیے۔ منجملہ مولانا محمد شاکرؒ، مولانا علی عابد دامت برکاتہ، و۔۔۔۔ کے اسماء گرامی سرفہرست ہیں۔ آپ نے ایک مختصر مدّت تک مشارع الشرائع جامعہ ناظمیہ میں بھی تدریسی فرایض انجام دئے۔
تصنیفاتعلامہ عدیل اختر طاب ثراہ کی شخصیت محققین و صاحبان قلم کے لئے محتاج تعارف نہیں ہے۔ آپ کی علمی-تحقیقی کتابیں آج بھی اہل قلم کے لئے سنگ میل کی حیثیت رکھتی ہیں۔ صلۂ تاریخ احمدی، صلح حسن(ع)، علمی خیانتیں، تدلیس شبلی، مسئلہ تقیہ، خلافة خیر البشر، رجال فکر و نظر، فلسفہ اسلام یا علم کلام و۔۔۔۔۔ جیسی اہم تحقیقی کتب اپنے آپ میں مثال ہیں۔
وفاتزندگی نے زیادہ وفا نہ کیا اور آپ نے صرف ٥٣ سال کی عمر میں 8 شوال1370ھ مطابق 1951 عیسوی میں مختصر علالت کے بعد داعی اجل کو لبیک کہا، اور حسینیہ غفران مآب لکھنؤ میں سپرد خاک کئے گئے۔
عاش سعیداً و مات سعیداً
یہ ہمارا دینی اور اخلاقی وظیفہ ہے کہ ہم اپنے بزرگوں اور دین و مکتب تشیع کے مخلص خدمت گزاروں کی یاد کو زندہ رکھیں۔ لہذا آپ حضرات سے درخواست ہے کہ سورہ حمد و توحید کی تلاوت فرما کر مرحوم علامہ عدیل اخترؒ کی روح کو ارسال فرمائیں۔
وَسَلَامٌ عَلَيْهِ يَوْمَ وُلِدَ وَيَوْمَ يَمُوتُ وَيَوْمَ يُبْعَثُ حَيًّا
شئیر کریں:

حالیہ ٹویٹس

ہم سے رابطہ

ہم سے رابطہ