سید مخدوم حسین نقوی(رح)

سید مخدوم حسین نقوی(رح)


بسم اللہ الرحمن الرحیم
اناللہ وانا الیہ راجعون
زندہ ہے جو وہ موت کی تکلیف سہے گا
جب احمد مرسل نا رہے پھر کون رہے گا

سید مخدوم حسین نقوی (رح ) (1926 تا 2020)
تنظیمیں اور تحریکیں مخلصین کے دم سے چلتی ہیں۔ شہید علامہ عارف حسین الحسینی ؒ اُن خوش قسمت ترین قائدین میں شمار کئے جا سکتے ہیں جنہیں مخلصین کی ایک جماعت میسر آئی۔ چنیوٹ جیسا زرخیز علاقہ بطور مثال پیش کیا جا سکتا ہے۔ اُس دور پر ایک نظر ڈالیں تو آپ کو چنیوٹ کی تحریکی زندگی میں تین واضح اشخاص دکھائی دیں گے کہ جن کی انتھک جدوجہد نے تحریک کو اس سطح پر پہنچا دیا تھا کہ 1985- 1986 میں تحصیل چنیوٹ کو ضلع چنیوٹ کا درجہ دے کر حکومتی اقدامات سے برسوں پہلے اس کی اہمیت کو سمجھ لیا گیا تھا۔
اس دور کے تحریک کے صدر کا نام مجھےتو یاد نہیں مگر ان تین افراد کے نام آج بھی ہر تنظیمی شخص کو یاد ہیں(1) سید ناصر حسین ترمذی مرحوم آف شیخن, سینئر نائب صدر(2) سید مخدوم حسین نقوی, جنرل سیکریٹری(3) سید حاجی سجاد حسین زیدی مرحوم, فنانس سیکریٹری۔
ان میں مخدوم حسین , 92 سال کی عمرمیں حشاش بشاش تھے اور ماضی کو یاد کر تصور میں کھوے رہتے تھے ۔ یہ تینوں افراد ہر اجلاس میں شریک ہوتے۔ بعض اوقات یہ تینوں افراد ہی اجلاس میں شریک ہوتے, فیصلے کرتے اور عمل درآمد کے لیے نکل پڑتے۔ نہ جدید وسائل اور نہ وسائل بلکہ جذبہ کے زور پر شہید حسینی ؒکا پیغام بستی بستی قریہ قریہ پہنچا کر دم لیا۔
مخدوم صاحب اپنے مخصوص لباس کھلے پائنچے کا پاجاما, کُرتا اور قراقلی ٹوپی میں جب تنظیمی اجلاس میں تشریف لاتے تو ہر شخص کا چہرہ خوشی سے کھل کھَلا اٹھتا۔ ہر شخص مخدوم صاحب پر تبصرہ کرتا اور مخدوم صاحب ایسا کرارہ جواب دیتے کہ مزہ آ جاتا۔ آپ ہر اجلاس میں شرکت کرتے, لکھی ہوئی مفصل رپورٹ ساتھ لے کر آتے۔ کوثر و تسنیم سے دھلی ہوئی زبان اور دلکش لہجہ میں اعتماد کے ساتھ بیان کرتے۔ سوالوں کے برجستہ جواب دے کر اپنی قادر کلامی کا ثبوت دیتے۔ ہر خط کا جواب دیتے اور سرگرمی سے صوبائی دفتر کو مطلع رکھتے۔ جو وعدہ کرتے اسے پورا کرتے۔
آپ کا گھر مہمانوں کی آماجگاہ بنا رہتا۔ یہ روایت تحریک سے پہلے سے تھی۔ علماء قوم و زعماء ملت جب تشریف لاتے تو مخدوم صاحب کا گھر کھلا ملتا۔ اُن دنوں شہر میں تانگہ سواری تھی۔ تانگے والے مخدوم صاحب کے گھر کے باہر انتظار میں رہتے کہ یہاں تو آنا جانا لگا رہتا ہے۔ چنیوٹ شہر کی تمام مذہبی سرگرمیوں میں آپ کا وافر حصہ ہے۔تحریک چنیوٹ کی کارکردگی کا اندازہ اِن امور سے لگایا جا سکتا ہے۔ تحریک نے اس کی صلاحیت کو دیکھتے ہوے اسے ضلع کا درجہ دے دیا۔1985 میں تحریک کا پہلا کنونشن رجوعہ سادات, چنیوٹ میں منعقد ہوا۔قرآن و سنت کانفرنس منعقدہ مینار پاکستان کے بعد قرآن و کانفرنس چنیوٹ میں بھی منعقد ہوئی۔
شہید حسینیؒ نے ضلع چنیوٹ کے تنظیمی اجلاس سے خطاب کرتے ہوے فرمایا کہ’’ ضلع چنیوٹ کی کاکردگی کئیں صوبوں سے بہتر ہے‘‘۔ شہید نے جہاں یہ الفاظ کہہ کر ضلع چنیوٹ کے عہدیداروں کو زبردست خراج تحسین پیش کیا وہیں صوبوں کی کاکردگی پر کڑی تنقید کی ہے۔ہر پروگرام میں چنیوٹ کی نمایاں نمائندگی ہوتی۔تنظیم کی مالی معاونت کرنے میں یہ علاقہ سر فہرست رہا۔شہید حسینی ؒکا بڑا استقبال بھی اسی ضلع کے قصبہ بھوانہ میں ہوا۔
یہ سب کچھ اُن مخلصین کی ٹیم کی وجہ سے ہوا, جس کی سربراہی مخدوم صاحب کرتے نظر آتے تھے۔
ایک یادگار واقعہ کہ شہید حسینی ؒ کی المناک شہادت کے بعد نئے تحریک کے سربراہ کے انتخاب کے لیے امام بارگاہ علمدار پشاور میں مرکزی کونسل کا اجلاس منعقد ہوا۔ مخدوم صاحب بطور رکن ِمرکزی کونسل شریک ہوے۔ توقع تھی کہ اجلاس مختصر وقت میں ختم ہو جاے گا کیونکہ سپریم کونسل نے ایک ہی نام تجویز کیا تھا۔ مگر وہاں پر بحث شروع ہو گی اور مطلوبہ نتائج تک پہنچنے کے لیے ووٹ کا ستعمال شروع ہو گیا۔
مخدوم صاحب کو ایک شکایت بار بار پیشاب کے آنے کی تھی ،جس کی وجہ سے انہیں باتھ روم میں جانا پڑتا۔ دو باتھ روم تھے اور لائن لگی ہوتی تھی اور انتہائی تکلیف میں باہر کھڑے آوازیں لگا تے۔ یہ کافی توجہ کا مرکز رہے۔ اسی طرح مخدوم صاحب جو پان ساتھ لے کر آے تھے وہ ختم ہو گئے۔ آپ بار بار اٹھ کر جاتے اور انتظامیہ کی منت کرتے کہ پان لا کر دیں۔ ایک پشاور دوسرا پان کا میسر آنا۔ مخدوم صاحب کی طلب و تڑپ دیکھنے کے قابل تھی۔ آخر کاراس بے چینی کو شہید انور علی آخونذادہ، جو کہ میزبان بھی تھے نے ذاتی دلچسپی لے کر اس مسئلہ کو حل کروایا۔مخدوم حسین زندہ دل انسان تھے۔ ان کی اپنے مذہب کے لیے خدمات ناقابل فراموش ہیں۔ اللہ انہیں غریقِ رحمت کرے اور جوارِ آئمہ معصومین علیہم السلام میں جگہ مرحمت فرمائے۔
’’احباب اگر ان کی گراں قدر خدمات اور خوش گوار یاں شیئر کریں ،تو موصوف کی خدمات کو خراج تحسین میں شمار ہو گا۔‘‘
اقتباس از تحریر : سید نثار علی ترمذی۔

شئیر کریں:

This function has been disabled for مرکز احیاء آثار بر صغیر.