ہفت روزہ درنجف


ہفت روزہ درنجف۔۔۔۔ بر صغیر پاک وہند میں شیعہ صحافت کا روشن چراغ
بر صغیر میں شیعہ صحافت کی ایک طویل اور باوقار تاریخ ہے۔ کسی محقق کو اسے بھی اپنی تحقیق کا موضوع بنانا چاہیے۔
” درنجف ” ہمارے شاندار ماضی کا ترجمان رہا ہے۔ جو کام بڑے ادارے نہ کر سکے وہ اکیلا ایک شخص کرتا رہا ہے اور اس دور کی مناسبت سے اپنا کردار ادا کرتا رہا۔ ان کی روشن و درخشندہ جدوجہد آج کے دور کے کچھ کر گزرنے والے لوگو کے لیے مشعل راہ ہے۔


ہفت روزہ درنجف۔۔۔۔ بر صغیر پاک وہند میں شیعہ صحافت کا روشن چراغ
تعارفبر صغیر میں شیعہ صحافت کی ایک طویل اور باوقار تاریخ ہے۔ کسی محقق کو اسے بھی اپنی تحقیق کا موضوع بنانا چاہیے۔
اس میں اصلی شیعہ تاریخ پوشیدہ ہے جس پر اہل علم و فضل کو متوجہ ہونا چاہیے۔ ان جرائد و رسائل و اخبارات کو محفوظ کر کے تحقیقی و موضوعاتی کام کیا جا سکتا ہے۔ اس کے لیے جدید وسائل بروئے کار لا کر مفاد عامہ کے لیے بھی مہیا کیا جاسکتا ہے۔ ان میں تاریخ کے علاوہ معارف اسلامی کے وہ ذخیرہ پوشیدہ ہیں جن سے استفادہ کیا جانا چاہیے۔
” درنجف ” ہمارے شاندار ماضی کا ترجمان رہا ہے۔ جو کام بڑے ادارے نہ کر سکے وہ اکیلا ایک شخص کرتا رہا ہے اور اس دور کی مناسبت سے اپنا کردار ادا کرتا رہا۔ ان کی روشن و درخشندہ جدوجہد آج کے دور کے کچھ کر گزرنے والے لوگو کے لیے مشعل راہ ہے۔
سید عنایت علی شاہ مرحوم نے 1908ء میں شیعہ مذہب کے دفاع میں ایک دقیع ، برجستہ اخبار "در نجف ” کا سیالکوٹ سے اجراء کیا۔ 1917ء میں اخبار کا دفتر لاہور لے آے اور ریلوے اسٹیشن لاہور کے قریب دفتر کراے پر لے شائع کرتے رہے۔ مولانا مرتضٰی حسین صدر الافاضل مرحوم راوی ہیں کہ عنایت علی شاہ مرحوم بتایا کرتے تھے کہ لاہور میں اس وقت ” زمیندار ” اخبار زورروں پر تھا۔ ظفر علی خان نے شیعوں کے خلاف لکھنا شروع کر دیا۔ شاہ صاحب نے فوراً زمیندار سائز پر اسی سج دھج کا پرچہ بنام زمیندار تیار کیا۔ اس کی پیشانی پر بڑے حروف میں زمیندار اور چھوٹے حروف میں جواب لکھا ہوتا تھا جو مشکل سے پڑھا جاتا تھا۔ باقی پرچہ ہو بہو زمیندار جیسا ہوتا تھا۔ کتابت کے بعد چھپوائی کا مسئلہ درپیش ہوا تو پورے لاہور میں کوئی پریس اسے چھاپنے کو تیار نہ تھا۔ سب ظفر علی خان سے ڈرتے تھے اور کہتے تھے اس نام سے وہ چھاپ نہیں سکتے۔ کوشش کے بعد ایک ہندو پریس کے مالک نے چھاپنے رضامندی ظاہر کی۔ اس اخبار کو ہاکروں ذریعے لاہور کے گلی کوچوں میں یہ جعلی زمیندار اخبار فروخت کرنا شروع کردیا۔ آخر مولانا ظفر علی خان راہ راست پر آ گئے اور یہ سلسلہ بند کر دیا گیا۔ عرصہ دراز تک در نجف ہفت روزہ ہی رہا لیکن 1931ء میں مہاراجہ کشمیر کے خلاف کشمیریوں کو تقویت دینے کے لیے اسے روزنامہ بنا دیا۔ 1932ء تک روزنامہ رہا۔ نام درنجف ہی رہا مگر اس کی پیشانی پر ڈیلی پنجاب ٹائمز لکھا ہوتا تھا۔
لطف کی بات یہ کہ آپ خود خبریں مہیا کرتے، خود کتابت کرتے،
خود مضمون لکھتے، خود ہی خریداروں کو بھجواتے تھے۔ یوں روزنامہ اخبار فرد واحد نے چلایا۔
در نجف میں باب المسائل کا ایک پورا صفحہ ہوتا تھا جس میں آپ اے ہوے سؤالات کے جوابات دیا کرتے تھے۔
سید عنایت عنایت علی شاہ 1870ء میں لوہدرہ، سیالکوٹ میں پیدا ہوئے۔ یہ گاؤں، وزیر آباد، پر اگوکی ریلوے اسٹیشن سے تقریباً تین کلومیٹر دور ہے۔ بعد ازاں اس گاؤں کے ڈاک خانے کا نام درنجف کر دیا گیا۔
آپ کے والد سید مرتضیٰ شاہ منشی فاضل و مولوی فاضل تھے اور سیالکوٹ کے افاضل میں شمار ہوتے تھے۔
عنایت علی شاہ بچپن سے ذہین تھے۔ انہیں خوش خط لکھنے کا شوق تھا اور شوقیہ طور پر قرآن مجید کی کتابت کرتے تھے۔ ایک مرتبہ اسکول کا معائینہ تھا۔ انسپکٹر نے تحریری مقابلہ کے لیے جماعت کو بٹھایا تو آپ کے ساتھیوں نے آپ کا قلم غائب کر دیا۔ لیکن شاہ صاحب نے فوراً گنے کا چھلکا اٹھا کر قط لگایا یعنی قلم بنا کر لکھنا شروع کر دیا۔ جب پرچہ انسپکٹر اسکولز نے دیکھا تو حیرت سے داد دی اور انعام دیا۔
اس دور میں سیالکوٹ میں عیسائی مسلمان، قادیانی مسلمان اور سنی شیعہ مناظروں میں دلچسپی لینا شروع کی اور آخر میں زبان وقلم سے شیعہ مناظرہ میں بڑی شہرت حاصل کی۔ آپ اعلیٰ درجہ کے شاعر، مناظر، مضمون نگار اور مصنف تھے
آپ نے 30 جون 1968ء بروز اتوار وفات پائی۔
تصانیف-1- ذوالفقار صفدری مع سیف مرتضوی بجواب سیف مرتضوی، پنجابی طویل نظم، مطبوعہ۔
2- حضرت امیر مختار کے حالات پر لکھی۔جذبہ انتقام حصہ اول مطبوعہ، حصہ دوئم غیر مطبوعہ۔3- شمشیر ولایت، دو حصے۔ 4- مقدمات سیالکوٹ، غیر مطبوعہ۔ 5- الحق مع علی، مطبوعہ۔ 6- سوہدرے میں ایک اہل حدیث مولوی نے دعویٰ کیا کہ حضرت علی علیہ السلام کی شان میں قرآن کی چند آیات ہیں۔ آپ نے درنجف کا نصف صدی نمبر القرآن مع علی، شائع کیا جس میں ثابت کہ پانچ سو سے زائد آیات حضرت علی علیہ السلام کی شان میں ہیں۔ 7- خزینہ المسائل، مناظرہ، مطبوعہ۔ 8- عنایت بخاری، مناظرہ قلمی، تین جلدیں۔ 9- صحابہ نمبر، درنجف، مطبوعہ۔ 10- مرزائیوں نے ” بضعہ الرسول ” نامی ایک کتاب میں سیدہ النساء العالمین سیدہ فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کے متعلق نازیبا کلمات استعمال کئے۔ آپ نے اس کا جواب ، خاتون جنت نمبر، در نجف میں دیا، مطبوعہ۔
مآخذ
1- تذکرہ علمائے امامیہ از حسین عارف نقوی
2- مطلع الانوار از مرتضٰی حسین صدر الافاضل
حوالہ جات
بحوالہ : ہفت روزہ رضا کار لاہور، 24مئی ۔2020۔
تحریر : سید نثار علی ترمذی۔
شئیر کریں:

This function has been disabled for مرکز احیاء آثار بر صغیر.